(۱۷۴۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَصِینٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَکِیمٍ الأَوْدِیُّ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ الأَنْصَارِیِّ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کُنْتُ إِذَا اشْتَدَّ نَبِیذُ النَّبِیِّ -ﷺ- جَعَلْتُ فِیہِ زَبِیبًا یَلْتَقِطُ حُمُوضَتَہُ۔قَالَ الشَّیْخُ : وَعَلَی مِثْلِ ہَذِہِ الصِّفَۃِ کَانَ نَبِیذُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَغَیْرِہِ مِنَ الصَّحَابَۃِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ أَلاَ تَرَی أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّمَا أَحَلَّ الطِّلاَئَ حِینَ ذَہَبَ سَکَرُہُ وَشَرُّہُ وَحَظُّ شَیْطَانِہِ۔ [ضعیف]
(١٧٤٢٤) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نبیذ گاڑھا ہوجاتا تو میں اس میں منقہ ملا دیتی تو وہ اس کے ترش زائقے کو ختم کردیتا۔ شیخ فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) اور دوسرے صحابہ کا نبیذ بھی اسی طرح ہوتا تھا۔ کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ حضرت عمر نے طلاء کو جائز قرار دیا جب اس کا نشہ اور نقصان اور اس سے شیطان کا حصہ ختم ہوجائے۔