(۱۷۴۳۱) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ عَلِیِّ بْنِ بَذِیمَۃَ عَنْ قَیْسِ بْنِ حَبْتَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ النَّبِیذِ عَبْدُ الْقَیْسِ أَتَوْہُ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا بِأَرْضِ رِیفٍ وَإِنَّا نُصِیبُ مِنَ الْثُّفْلِ فَأْمُرْنَا بِشَرَابٍ فَقَالَ : اشْرَبُوا فِی الأَسْقِیَۃِ وَلاَ تَشْرَبُوا فِی الْجَرِّ وَلاَ فِی الدُّبَّائِ وَلاَ الْمُزَفَّتِ وَلاَ النَّقِیرِ وَإِنِّی نُہِیتُ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَالْکُوبَۃِ وَہِیَ الطَّبْلُ وَکُلُّ مُسْکِرٌ حَرَامٌ ۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَإِذَا اشْتَدَّ۔ قَالَ فَقَالَ: صُبُّوا عَلَیْہِ الْمَائَ۔ قَالَ: فَإِذَا اشْتَدَّ۔ قَالَ: صُبُّوا عَلَیْہِ الْمَائَ۔ قَالَ فِی الثَّالِثَۃِ أَوِ الرَّابِعَۃِ: فَإِذَا اشْتَدَّ فَأَہْرِیقُوہُ۔ [حسن]
(١٧٤٣١) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے نبیذ کے بارے میں بنو عبدالقیس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا۔ وہ آئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ ! ہم کھیتی باڑی والی زمین میں رہتے ہیں اور ہمیں اسی سے پھل حاصل ہوتا ہے تو ہمیں مشروبات کے بارے میں بتائیے تو آپ (رض) نے فرمایا : پینے والے برتنوں میں پیو اور مٹی کے گھڑے ، کدو کے برتن ، لکڑی کے برتن اور تارکول سے بنے برتن میں نہ پیو اور مجھے شراب، جوئے اور طبلہ سے منع کیا گیا ہے اور ہر نشہ آور چیز بھی منع ہے۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اگر وہ بہت زیادہ گاڑھا ہوجائے تو ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانی اس میں ملا دو ۔ پھر انھوں نے یہی سوال کیا تو آپ نے پھر یہی جواب دیا۔ پھر جب تیسری یا چوتھی مرتبہ جب یہی سوال دھرایا تو آپ نے فرمایا : جب وہ بہت سخت ہوجائے تو اسے انڈیل دو ۔