(۱۷۴۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا مُعَلَّی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمْزَۃَ عَنْ ثَوْرِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَشَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالاَ: الشَّفَقُ شَفَقَانِ الْحُمْرَۃُ وَالْبَیَاضُ فَإِذَا غَابَتِ الْحُمْرَۃُ حَلَّتِ الصَّلاَۃُ ، وَالْفَجْرُ فَجْرَانِ الْمُسْتَطِیلُ وَالْمُعْتَرِضُ فَإِذَا انْصَدَعَ الْمُعْتَرِضُ حَلَّتِ الصَّلاَۃُ۔
وَرُوِّینَا عَنْ سُفْیَانَ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ مَکْحُولٍ أَنَّہُ قَالَ: إِذَا ذَہَبَتِ الْحُمْرَۃُ فَصَلِّ۔ قَالَ سُفْیَانُ: وَہُوَ أَحَبُّ إِلَیْنَا وَذَلِکَ الشَّفَقُ عِنْدَنَا لأَنَّ الْبَیَاضَ لاَ یَذْہَبُ حَتَّی یَمْضِیَ اللَّیْلُ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَالَّذِی رَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی أَوْقَاتِ الصَّلاَۃِ ثُمَّ صَلَّی الْعِشَائَ قَبْلَ غَیْبُوبَۃِ الشَّفَقِ مُخَالِفٌ لِسَائِرِ الرِّوَایَاتِ۔
[ضعیف۔ أخرجہ الدارقطنی ۱/۲۶۹]
(١٧٤٦) (الف) سیدنا عبادہ بن صامت اور شداد بن اوس کہتے ہیں کہ شفق سے مراددو ہیں : سرخی اور سفیدی جب سرخی غائب ہوجائے تو نماز حلال ہوگی اور فجر سے مراد دو فجر ہیں : لمبائی میں پھیلنے والی اور چوڑائی میں پھیلنے والی اور جب چوڑائی میں پھیلنے والی پھٹ جائے تو نماز حلال ہوگی۔
(ب) مکحول کہتے ہیں کہ جب سرخی چلی جائے تو نماز پڑھی جائے اور سفیان کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ زیادہ مناسب (محبوب) ہے کہ ہم سرخی کے جانے پر نماز ادا کریں کیونکہ سفیدی تو رات کے ختم ہونے تک نہیں جاتی۔
(ج) جابر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اوقاتِ نماز نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے عشا کی نماز سرخی زائل ہونے سیپہلے ادا کی۔ یہ روایت باقی روایات کے مخالف ہے۔