(۱۷۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِیٍّ الْفَقِیہُ فِی مَسْجِدِ الرُّصَافَۃِ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا حَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ بْنِ أَبِی حَفْصَۃَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ رَجُلاً أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَسَأَلَہُ عَنْ مَوَاقِیتِ الصَّلاَۃِ فَقَالَ : ((اشْہَدْ مَعَنَا الصَّلاَۃَ))۔ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِلاَلاً فَأَذَّنَ بِغَلَسٍ فَصَلَّی الصُّبْحَ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالظُّہْرِ حِینَ زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَائِ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالْمَغْرِبِ حِینَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالْعِشَائِ حِینَ وَجَبَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ أَمَرَہُ الْغَدَ فَنَوَّرَ بِالصُّبْحِ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالظُّہْرِ فَأَبْرَدَ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ نَقِیَّۃٌ لَمْ یُخَالِطْہَا صُفْرَۃٌ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالْمَغْرِبِ قَبْلَ أَنْ یَقَعَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالْعِشَائِ عِنْدَ ذَہَابِ ثُلُثِ اللَّیْلِ أَوْ بَعْضِہِ - شَکَّ أَبُو رَوْحٍ - فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ : ((أَیْنَ السَّائِلُ؟ مَا بَیْنَ مَا رَأَیْتَ وَقْتٌ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَۃَ عَنْ حَرَمِیِّ بْنِ عُمَارَۃَ أَبِی رَوْحٍ۔
وَقَدْ رُوِّینَاہُ مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ قَالَ فَأَقَامَ الْعِشَائَ حِینَ ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ۔ [صحیح]
(١٧٥١) (الف) سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اس نے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارے ساتھ نماز میں حاضر ہو، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا، انھوں نے اندھیرے میں اذان دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز پڑھائی، پھر آپ نے ظہر کا حکم دیا جس وقت سورج بلند تھا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کا حکم دیا جس وقت سورج غروب ہوگیا، پھر عشاء کا حکم دیا جس وقت سرخی غائب ہوگئی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسرے روز حکم دیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کو روشن کیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کا حکم دیا اس کو ٹھنڈا کیا : پھر عصر کا حکم دیا اور سورج سفید صاف تھا اس کے ساتھ زردی نہیں ملی تھی، پھر سرخی غائب ہونے سے پہلے مغرب کا حکم دیا، پھر ایک تہائی رات گزرنے کے وقت عشاکا حکم دیایا بعض رات گزرنے کے وقت۔ ابو روح کو شک ہوا ہے۔ جب صبح ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سائل کہاں ہے ؟ جو تو نے دیکھا ہے اس کے درمیان نماز کا وقت ہے۔
(ب) علقمہ بن مرثد سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی اقامت کہی جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا۔