(۱۷۵۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی أَخْبَرَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالْعَتَمَۃِ حَتَّی نَادَاہُ عُمَرُ فَقَالَ: الصَّلاَۃَ نَامَ النِّسَائُ وَالصِّبْیَانُ۔ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ((مَا یَنْتَظِرُہَا أَحَدٌ مِنْ أَہْلِ الأَرْضِ غَیْرُکُمْ))۔ وَلاَ یُصَلَّی یَوْمَئِذٍ إِلاَّ بِالْمَدِینَۃِ ، وَکَانُوا یُصَلُّونَ الْعَتَمَۃَ فِیمَا بَیْنَ أَنْ یَغِیبَ شَفَقُ اللَّیْلِ إِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ الأَوَّلِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَکَذَلِکَ أَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔
وَمَنْ قَالَ بِالْقَوْلِ الثَّانِی احْتَجَّ بِمَا۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۵۴۴]
(١٧٥٢) زہری کہتے ہیں کہ مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ عائشہ (رض) نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز اندھیرے میں ادا کی، یہاں تک کہ عمر (رض) نے آواز دی کہ نماز ! بچے اور عورتیں سو گئیں ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے اور فرمایا : تمہارے علاوہ اہل زمین سے کوئی بھی اس کا انتظار نہیں کر رہا، ان دنوں مدینہ میں نماز پڑھی جاتی تھی اور وہ عشاء کی نماز رات کی سرخی غروب ہونے سے لے کر ایک تہائی رات تک پڑھتے تھے۔