(۱۷۵۱۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ : أَتَجْلِدُ فِی رِیحِ الشَّرَابِ؟ فَقَالَ عَطَاء ٌ : إِنَّ الرِّیحَ لَتَکُونُ مِنَ الشَّرَابِ الَّذِی لَیْسَ بِہِ بَأْسٌ فَإِذَا اجْتَمَعُوا جَمِیعًا عَلَی شَرَابٍ وَاحِدٍ فَسَکِرَ أَحَدُہُمْ جُلِدُوا جَمِیعًا الْحَدَّ تَامًّا۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَوْلُ عَطَائٍ مِثْلُ قَوْلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح لغیرہ]
(١٧٥١٤) ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا کہ اگر کسی سے شراب کی بو آئے تو کیا آپ اسے کوڑے ماریں گے ؟ فرمایا : شراب کی بو کوئی بات نہیں، ہاں سب نے مل کر کچھ پیا اور ایک کو بھی اس سے نشہ ہوگیا تو سب کو مکمل حد ماروں گا۔