(۱۷۵۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ : کُنْتُ جَالِسًا بِحِمْصَ فَقَالُوا لِی اقْرَأْ فَقَرَأْتُ سُورَۃَ یُوسُفَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : وَاللَّہِ مَا ہَکَذَا أَنْزَلَہَا اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ۔ قَالَ فَقُلْتُ : وَیْحَکَ لَقَدْ قَرَأْتُہَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : أَحْسَنْتَ ۔ وَأَنْتَ تَقُولُ لِی مَا تَقُولُ قَالَ فَبَیْنَا أَنَا أُکَلِّمُہُ إِذْ وَجَدْتُ مِنْہُ رِیحَ الْخَمْرِ فَقُلْتُ تُکَذِّبُ بِکِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَتَشْرَبُ الْخَمْرَ أَمَّا وَاللَّہِ لاَ تَرْجِعُ إِلَی أَہْلِکَ حَتَّی أَجْلِدَکَ الْحَدَّ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَعْمَشِ وَیُحْتَمَلُ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ لَمْ یَجْلِدْہُ حَتَّی ثَبَتَ عِنْدَہُ شُرْبُہُ مَا یُسْکِرُ بِبَیِّنَۃٍ أَوِ اعْتِرَافٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
(١٧٥١٥) حضرت عبداللہ کہتے ہیں : میں حمص میں بیٹھا تھا تو لوگوں نے کہا : قرآن سنائیے۔ میں نے سورة یوسف پڑھی تو ایک شخص کہنے لگا : واللہ یہ ایسے نہیں نازل ہوئی تھی۔ میں نے کہا : تو برباد ہو میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنائی تھی تو آپ نے فرمایا تھا : بہت اچھا اور تو یہ بات کہتا ہے۔ ابھی میں یہ بات کر ہی رہا تھا کہ اس سے شراب کی بو محسوس کی تو میں نے کہا کہ تو شراب پی کر اللہ کی کتاب کو جھٹلاتا ہے۔ واللہ ! جب تک تجھے حد نہ مار دوں گھر نہیں جانے دوں گا۔