(۱۷۵۵۲) حَدَّثَنَا الإِمَامُ أَبُو الطَّیِّبِ : سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُوَیْدٍ عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ یَعْنِی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ شَوْذَبٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ الأَسْلَمِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِذَا أَصَابَ غَنِیمَۃً أَمَرَ بِلاَلاً فَنَادَی ثَلاَثًا فَیَرْفَعُ النَّاسُ مَا أَصَابُوا ثُمَّ یَأْمُرُ بِہِ فَیُخَمَّسُ فَأَتَاہُ رَجُلٌ بِزِمَامٍ مِنْ شَعَرٍ وَقَدْ قُسِمَتِ الْغَنِیمَۃُ فَقَالَ ہَلْ سَمِعْتَ بِلاَلاً یُنَادِی ثَلاَثًا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمَا مَنَعَکَ أَنْ تَأْتِیَ بِہِ فَاعْتَذَرَ إِلَیْہِ فَقَالَ لَہُ کُنْ أَنْتَ الَّذِی تُوَافِی بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَإِنِّی لَنْ أَقْبَلَہُ مِنْکَ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَوْذَبٍ۔ [ضعیف]
(١٧٥٥٢) عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غنیمت کا مال ملا تو آپ نے حضرت بلال (رض) کو حکم دیا کہ تین دفعہ منادی کر دو کہ جس کے پاس جو ہے سارا جمع کروا دو ۔ لوگ لے آئے۔ پھر اس سے خمس نکالا تو اتنے میں ایک شخص لگام لایا جو بالوں سے بنائی گئی تھی۔ اس وقت تک غنیمت تقسیم ہوچکی تھی تو آپ نے اس سے پوچھا : تو نے بلال کی منادی سنی تھی ؟ کہا : ہاں۔ پوچھا : پھر پہلے کیوں نہیں لائے تھے، اس نے عذر پیش کیا تو آپ نے فرمایا : اب میں اسے قبول نہیں کروں گا قیامت کے دن تجھے یہ ادا کرنی پڑے گی۔