(۱۷۶۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ : لَمَّا وَجَّہَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ إِلَی أَہْلِ الرِّدَّۃِ أَوْعَبَ مَعَہُ بِالنَّاسِ وَخَرَجَ مَعَہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَتَّی نَزَلَ بِذِی الْقَصَّۃِ مِنَ الْمَدِینَۃِ عَلَی بَرِیدَیْنِ فَعَبَّأَ ہُنَاکَ جُیُوشَہُ وَعَہِدَ إِلَیْہِ عَہْدَہُ وَأَمَّرَ عَلَی الأَنْصَارِ ثَابِتَ بْنَ قَیْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ وَأَمْرُہُ إِلَی خَالِدٍ وَأَمَّرَ خَالِدًا عَلَی جَمَاعَۃِ النَّاسِ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَقَبَائِلِ الْعَرَبِ ثُمَّ أَمَرَہُ أَنْ یَصْمُدَ لِطُلَیْحَۃَ بْنِ خُوَیْلِدٍ الأَسَدِیِّ فَإِذَا فَرَغَ مِنْہُ صَمَدَ إِلَی أَرْضِ بَنِی تَمِیمٍ حَتَّی یَفْرُغَ مِمَّا بِہَا وَأَسَرَّ ذَلِکَ إِلَیْہِ وَأَظْہَرَ أَنَّہُ سَیَلْقَی خَالِدًا بِمَنْ بَقِیَ مَعَہُ مِنَ النَّاسِ فِی نَاحِیَۃِ خَیْبَرَ وَمَا یُرِیدُ ذَلِکَ إِنَّمَا أَظْہَرَہُ مَکِیدَۃً قَدْ کَانَ أَوْعَبَ مَعَ خَالِدٍ بِالنَّاسِ فَمَضَی خَالِدٌ حَتَّی الْتَقَی ہُوَ وَطُلَیْحَۃُ فِی یَوْمِ بُزَاخَۃَ عَلَی مَائٍ مِنْ مِیَاہِ بَنِی أَسَدٍ یُقَالُ لَہُ قَطَنٌ وَقَدْ کَانَ مَعَہُ عُیَیْنَۃُ بْنُ بَدْرٍ فِی سَبْعِمِائَۃٍ مِنْ فَزَارَۃَ فَکَانَ حِینَ ہَزَّتْہُ الْحَرْبُ یَأْتِی طُلَیْحَۃَ فَیَقُولُ : لاَ أَبَا لَکَ ہَلْ جَائَ کَ جِبْرِیلُ بَعْدُ؟ فَیَقُولُ : لاَ وَاللَّہِ۔ فَیَقُولُ : مَا یُنْظِرُہُ فُقِدَ وَاللَّہِ جُہْدُنَا حَتَّی جَائَ ہُ مَرَّۃً فَسَأَلَہُ فَقَالَ : نَعَمْ قَدْ جَائَ نِی فَقَالَ إِنَّ لَکَ رَحًی کَرَحَاہُ وَحَدِیثًا لاَ تَنْسَاہُ فَقَالَ أَظُنُّ قَدْ عَلِمَ اللَّہُ أَنَّہُ سَیَکُونُ لَکَ حَدِیثٌ لاَ تَنْسَاہُ ہَذَا وَاللَّہِ یَا بَنِی فَزَارَۃَ کَذَّابٌ فَانْطَلِقُوا لِشَأْنِکُمْ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَدْ رُوِّینَا فِی کِتَابِ قِتَالِ أَہْلِ الْبَغْیِ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَتْلَ طُلَیْحَۃَ عُکَّاشَۃَ بْنَ مِحْصَنٍ وَثَابِتَ بْنَ أَقْرَمَ فِی ہَذَا الْوَجْہِ ثُمَّ إِسْلاَمَہُ حِینَ غَلَبَ الْحَقُّ وَإِحْرَامَہُ بِالْعُمْرَۃِ وَمُرُورَہُ بِأَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْمَدِینَۃِ وَلَمْ یَبْلُغْنَا أَنَّہُ أَقَادَ مِنْہُ أَوْ أَلْزَمَہُ الْعَقْلَ۔ [صحیح]
(١٧٦٣٠) عروہ بن زبیر (رض) کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر نے خالد بن ولید (رض) کو مرتدین کی طرف متوجہ کیا تو لوگوں نے ان میں عیب نکالے تو ان کے ساتھ ابوبکر (رض) بھی نکلے۔ جب مدینہ سے ذی القصہ نامی جگہ پر پہنچے جو مدینہ سے ٢ برید کے فاصلے پر ہے تو وہاں تمام لشکر جمع ہوئے اور ان سے عہد لیا اور انصار پر ثابت بن قیس بن شماس کو اور پوری جماعت پر خالد بن ولید کو امیر مقرر فرمایا اور حکم دیا کہ پہلے طلیحہ بن خویلد اسدی کے مقابلے میں ثابت قدم رہنا۔ پھر اس سے فارغ ہو کر بنو تمیم کی زمین کی طرف بڑھنا۔ ان کو مغلوب کر کے باقی لوگ خالد سے خیبر میں ملیں۔ حضرت خالد (رض) کی طلیحہ سے جنگ بنو اسد کے پانی پر ہوئی۔ جس کا نام قطن تھا اور اس کے ساتھ بنو فزارہ سے عیینہ بن بدر ٧٠٠ لوگوں کے ساتھ تھے۔ جب جنگ بھڑ گئی تو طلیحہ کے پاس آئے اور پوچھا : تیرا باپ نہ ہو، کیا اس کے بعد بھی فرشتہ جبرائیل آیا ہے ؟ کہا : نہیں۔ پھر دوبارہ پوچھاتو کہا : ہاں چکی کی طرح آواز تھی اور ایسی بات جس کو تو نہیں بھول سکتا تو فرمایا : میرا خیال ہے کہ تیرے لیے ایسی بات ہوگی جسے تو بھول نہیں سکے گا اور کہا : اے بنو فزارہ ! یہ جھوٹا ہے، اپنا کام کرو۔
شیخ فرماتے ہیں کہ کتاب قتال اہل البغی میں ہم یہ سب تفصیلاً بیان کر آئے ہیں۔