(۱۷۶۳۱) وَفِی کِتَابِی عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظِ وَأَظُنُّہُ فِیمَا سَمِعْتُہُ وَإِلاَّ فَہُوَ فِیمَا أَجَازَ لِی أَنَّ أَبَا عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیَّ أَخْبَرَہُمْ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَہْمِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِیُّ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : لَمَّا وَقَعَتِ الہَزِیمَۃُ فِی عَسْکَرِ طُلَیْحَۃَ خَرَجَ فِی النَّاسِ مُنْہَزِمًا حَتَّی قَدِمَ الشَّامَ ثُمَّ قَدِمَ فِی خِلاَفَۃِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَکَّۃَ فَلَمَّا رَآہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ قَالَ : یَا طُلَیْحَۃُ لاَ أُحِبُّکَ بَعْدَ قَتْلِکَ الرَّجُلَیْنِ الصَّالِحَیْنِ عُکَّاشَۃَ بْنَ مِحْصَنٍ وَثَابِتَ بْنَ أَقْرَمَ فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَکْرَمَہُمَا اللَّہُ بِیَدِی وَلَمْ یُہِنِّی بِأَیْدِیہِمَا وَمَا کُلُّ الْبُیُوتِ بُنِیَتْ عَلَی الْحُبِّ وَلَکِنْ صَفْحَۃٌ جَمِیلَۃٌ فَإِنَّ النَّاسَ یَتَصَافَحُونَ عَلَی الشَّنَآنِ وَأَسْلَمَ طُلَیْحَۃُ إِسْلاَمًا صَحِیحًا۔ [ضعیف جدًا]
(١٧٦٣١) محمد بن موسیٰ بن محمد تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب طلیحہ کے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی تو طلیحہ شام بھاگ گیا۔ جب خلافت عمر میں وہ مکہ واپس آیا تو حضرت عمر نے فرمایا : اے طلیحہ ! تو نے دو صالح آدمیوں عکاشہ بن محصن اور ثابت بن اقرم کو شہید کیا ہے۔ اس لیے مجھے تجھ سے محبت نہیں تو اس نے جواب دیا : اے عمر ! اللہ نے ان دونوں کو میرے ہاتھوں عزت بخشی اور مجھے ان کے ہاتھوں رسوا ہونے سے بچا لیا۔ سارے گھر محبت پر نہیں بنائے گئے، ہاں مصافحہ جو دو دشمن بھی مصافحہ کرلیتے ہیں۔ اس کے بعد طلیحہ اچھا مسلمان ہوگیا۔