(١٧٧٦٣) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : ثُمَّ إِنَّ أَبَا الْعَاصِ رَجَعَ إِلَی مَکَّۃَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ فَلَمْ یَشْہَدْ مَعَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَشْہَدًا ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ بَعْدَ ذَلِکَ فَتُوُفِّیَ فِی ذِی الْحِجَّۃِ مِنْ سَنَۃِ اثْنَتَیْ عَشْرَۃَ فِی خِلاَفَۃِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَوْصَی إِلَی الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ۔ [ضعیف ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَکَانَ یَأْمُرُ جُیُوشَہُ أَنْ یَقُولُوا لِمَنْ أَسْلَمَ إِنْ ہَاجَرْتُمْ فَلَکُمْ مَا لِلْمُہَاجِرِینَ وَإِنْ أَقَمْتُمْ فَأَنْتُمْ کَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِینَ وَلَیْسَ یُخَیِّرُہُمْ إِلاَّ فِیمَا یَحِلُّ لَہُمْ ۔
(١٧٧٦٣) محمد بن اسحاق (رض) فرماتے ہیں کہ ابو العاص (رض) اسلام قبول کرنے کے بعد پھر مکہ میں لوٹ آئے اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کسی غزوے میں شرکت نہ کی۔ اس کے بعد پھر مدینہ میں آئے اور ذی الحجہ سن ١٢ ھ ابوبکر (رض) کی خلافت میں وفات پائی اور زبیر بن عوام کو وصیت کی۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ اپنے لشکروں کو حکم دیتے تھے کہ وہ اسلام قبول کرنے والوں سے کہیں کہ اگر تم نے ہجرت کی تو تم کو بھی وہی ملے گا جو مہاجرین کو ملتا ہے اور اگر تم نے ہجرت نہ کی تو تم دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہو گے اور ان کو وہی کچھ دیا جاتا ہے جو ان کے لیے جائز اور مناسب ہو۔