hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 17770

.

سنن البيهقي

17770
Sunan Al Bayhaqi
(١٧٧٦٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا بَعَثَ أَمِیرًا عَلَی سَرِیَّۃٍ أَوْ جَیْشٍ أَوْصَاہُ فِی خَاصَّۃِ نَفْسِہِ بِتَقْوَی اللَّہِ وَبِمَنْ مَعَہُ مِنَ الْمُسْلِمِینَ خَیْرًا وَقَالَ : إِذَا لَقِیتَ عَدُوَّکَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَادْعُہُمْ إِلَی إِحْدَی ثَلاَثِ خِصَالٍ أَوْ خِلاَلٍ فَأَیَّتُہُنَّ أَجَابُوکَ إِلَیْہَا فَاقْبَلْ مِنْہُمْ وَکُفَّ عَنْہُمْ ادْعُہُمْ إِلَی الإِسْلاَمِ فَإِنْ أَجَابُوکَ فَاقْبَلْ مِنْہُمْ وَکُفَّ عَنْہُمْ ثُمَّ ادْعُہُمْ إِلَی التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِہِمْ إِلَی دَارِ الْمُہَاجِرِینَ وَأَعْلِمْہُمْ أَنَّہُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِکَ أَنَّ لَہُمْ مَا لِلْمُہَاجِرِینَ وَأَنَّ عَلَیْہِمْ مَا عَلَی الْمُہَاجِرِینَ فَإِنْ أَبَوْا وَاخْتَارُوا دَارَہُمْ فَأَعْلِمْہُمْ أَنَّہُمْ یَکُونُونَ مِثْلَ أَعْرَابِ الْمُسْلِمِینَ یَجْرِی عَلَیْہِمْ حُکْمُ اللَّہِ الَّذِی کَانَ یَجْرِی عَلَی الْمُؤْمِنِینَ وَلاَ یَکُونُ لَہُمْ فِی الْفَیْئِ وَالْغَنِیمَۃِ نَصِیبٌ إِلاَّ أَنْ یُجَاہِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِینَ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ وَکِیعٍ قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ وَرَدَتْ أَخْبَارٌ فِی مِثْلِ ہَذَا الْمَعْنَی۔ [صحیح۔ مسلم ]
(١٧٧٦٤) حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کسی کو لشکر پر امیر مقرر کر کے بھیجتے تو اسے خاص طور پر تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیتے اور اسے یہ بھی حکم دیتے کہ جب تیری ملاقات اپنے مشرک دشمنوں سے ہو تو پہلے ان کو تین چیزوں کی دعوت دینا۔ اگر وہ تین میں سے کسی ایک کو بھی قبول کرلیں تو تم ان کی اس بات کو مان لینا اور ان سے قتال نہ کرنا۔ سب سے پہلے ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا۔ اگر وہ قبول کرلیں تو تم بھی ان سے ان کے اسلام کو قبول کرنا اور ان سے قتال نہ کرنا۔ پھر ان کو اس جگہ کو بدلنے کا حکم دینا اور ان کو دار الاسلام کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دینا اور ساتھ یہ بھی بتا دینا کہ اگر وہ یہ کام کرتے ہیں تو ان کے حقوق و فرائض ویسے ہی ہوں گے جیسے باقی مہاجرین کے ہیں اور اگر وہ ہجرت سے انکار کریں اور انپے وطن اور شہر کو پسند کریں تو ان سے کہنا کہ اس صورت میں تمہارے حقوق و فرائض دیہات کے مسلمان جیسے ہوں گے اور ان کا مال فیٔ اور مال غنیمت میں کوئی حصہ نہ ہوگا سوائے اس صورت کے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں۔