(١٧٧٧٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَطَائٌ : أَنَّہُ جَائَ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مَعَ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ وَکَانَتْ مُجَاوِرَۃً قَالَ فَقَالَ عُبَیْدٌ : أَیْ ہَنْتَاہُ أَسْأَلُکِ عَنِ الْہِجْرَۃِ ۔ قَالَتْ : لاَ ہِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ إِنَّمَا کَانَتِ الْہِجْرَۃُ قَبْلَ الْفَتْحِ حِینَ یُہَاجِرُ الرَّجُلُ بِدِینِہِ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَمَّا حِینَ کَانَ الْفَتْحُ حَیْثُ شَائَ الرَّجُلُ عَبَدَ اللَّہَ لاَ یُمْنَعُ ۔ [صحیح ]
(١٧٧٧٦) عطاء کہتے ہیں کہ میں عبید بن عمیر کے ساتھ حضرت عائشہ (رض) کے پاس آیا اور وہ اعتکاف بیٹھی تھیں یا مجاورہ کا دوسرا ترجمہ ہے کہ وہ ان کے پڑوس میں رہتی تھیں تو ان سے عبید نے کہا : اے ہنتاہ ! (یہ حضرت عائشہ کی کنیت وغیرہ ہے) میں آپ سے ہجرت کے متعلق سوال کرتا ہوں۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے کہا : فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں، ہجرت تو فتح مکہ سے پہلے تھی جب آدمی اپنے دین کی خاطر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہجرت کرتا تو جب فتح ہوگئی ہے تو اب آدمی جہاں چاہے اللہ کی عبادت کرسکتا ہے اسے عبادت سے منع نہیں کیا جائے گا۔