(١٧٨٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ حُصَیْنِ بْنِ وَحْوَحٍ : أَنَّ طَلْحَۃَ بْنَ الْبَرَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمَّا لَقِیَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ یَا نَبِیَّ اللَّہِ مُرْنِی بِمَا أَحْبَبْتَ وَلاَ أَعْصِی لَکَ أَمْرًا قَالَ فَعَجِبَ لِذَلِکَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ غُلاَمٌ فَقَالَ لَہُ عِنْدَ ذَلِکَ : فَاقْتَلْ أَبَاکَ ۔ قَالَ : فَخَرَجَ مُوَلِّیًا لِیَفْعَلَ فَدَعَاہُ قَالَ : إِنِّی لَمْ أُبْعَثْ لِقَطِیعَۃِ رَحِمٍ ۔ [ضعیف ]
(١٧٨٣٤) حضرت طلحہ بن برائ (رض) جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : جو آپ پسند کریں مجھے حکم دیں۔ میں کسی معاملہ میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر تعجب کیا اور وہ ابھی چھوٹے تھے۔ آپ نے ان کو کہا : ” اپنے باپ کو قتل کر ! “ جب وہ واپس ہوا تاکہ اس پر عمل کرے تو آپ نے اس کو بلایا اور فرمایا : ” مجھے رشتے توڑنے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ “