(١٧٨٣٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا ضَمْرَۃُ بْنُ رَبِیعَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَوْذَبٍ قَالَ : جَعَلَ أَبُو أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ یَنْصِبُ الأَلِہَۃَ لأَبِی عُبَیْدَۃَ یَوْمَ بَدْرٍ وَجَعَلَ أَبُو عُبَیْدَۃَ یَحِیدُ عَنْہُ فَلَمَّا کَثَّرَ الْجَرَّاحُ قَصَدَہُ أَبُو عُبَیْدَۃَ فَقَتَلَہُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِ ہَذِہِ الآیَۃَ حِینَ قَتَلَ أَبَاہُ { لاَ تَجِدُ قَوْمًا یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ یُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَلَوْ کَانُوا آبَائَ ہُمْ أَوْ أَبْنَائَ ہُمْ } [المجادلۃ ٢٢] إِلَی آخِرِہَا۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ۔ [ضعیف ]
(١٧٨٣٥) حضرت عبداللہ بن شوذب فرماتے ہیں کہ بدر کے دن ابو عبیدہ بن جراح کا والد اس کے لیے معبود کھڑے کرتا تھا اور ابو عبیدہ ان سے کنارہ کشی کرتے تھے۔ جب جراح نے اس عمل میں زیادتی کی تو ابو عبیدہ نے انھیں قتل کرنا چاہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق یہ آیت اتاری۔ جب ابو عبیدہ نے اپنے باپ کو قتل کردیا : { لاَ تَجِدُ قَوْمًا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَادَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْ کَانُوْا آبَائَ ہُمْ اَوْ اَبْنَآئَ ہُمْ } [المجادلۃ ٢٢] ” تو ان لوگوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں آپ نہیں پائیں گے کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے۔ “