hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 17883

.

سنن البيهقي

17883
Sunan Al Bayhaqi
(١٧٨٧٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ الْفُضَیْلِ بْنِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نِیَارٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قِبَلَ بَدْرٍ فَلَمَّا کَانَ بِحَرَّۃِ الْوَبَرَۃِ أَدْرَکَہُ رَجُلٌ قَدْ کَانَ یُذْکَرُ مِنْہُ جُرْأَۃٌ وَنَجْدَۃٌ فَفَرِحَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حِینَ رَأَوْہُ فَلَمَّا أَدْرَکَہُ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ جِئْتُ لأَتَّبِعَکَ وَأُصِیبَ مَعَکَ ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ ؟ قَالَ : لاَ ۔ قَالَ : فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِینَ بِمُشْرِکٍ ۔ قَالَ : ثُمَّ مَضَی حَتَّی إِذَا کَانَتِ الشَّجَرَۃُ أَدْرَکَہُ الرَّجُلُ فَقَالَ لَہُ کَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّۃٍ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّۃٍ قَالَ لاَ قَالَ فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِینَ بِمُشْرِکٍ قَالَتْ فَرَجَعَ ثُمَّ أَدْرَکَہُ بِالْبَیْدَائِ فَقَالَ لَہُ کَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّۃٍ : تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ ؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : فَانْطَلِقْ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ] قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : لَعَلَّہُ رَدَّہُ رَجَائَ إِسْلاَمِہِ وَذَلِکَ وَاسِعٌ لِلإِمَامِ وَقَدْ غَزَا بِیَہُودَ بَنِی قَیْنُقَاعٍ بَعْدَ بَدْرٍ وَشَہِدَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَیَّۃَ مَعَہُ حُنَیْنًا بَعْدَ الْفَتْحِ وَصَفْوَانُ مُشْرِکٌ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : أَمَّا شُہُودُ صَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ مَعَہُ حُنَیْنًا وَصَفْوَانُ مُشْرِکٌ فَإِنَّہُ مَعْرُوفٌ فِیمَا بَیْنَ أَہْلِ الْمَغَازِی وَقَدْ مَضَی بِإِسْنَادِہِ ۔ وَأَمَّا غَزْوُہُ بِیَہُودِ بَنِی قَیْنُقَاعَ فَإِنِّی لَمْ أَجِدْہُ إِلاَّ مِنْ حَدِیثِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَۃَ وَہُوَ ضَعِیفٌ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : اسْتَعَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِیَہُودِ قَیْنُقَاعَ فَرَضَخَ لَہُمْ وَلَمْ یُسْہِمْ لَہُمْ ۔
(١٧٨٧٧) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کی طرف نکلے تو حرہ الوبرہ کے مقام پر آدمی ملا۔ وہ جرأت اور بہادری و دلیری میں مشہور تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی اس کو دیکھ کر خوش ہوئے۔ اس نے آپ کے پاس آ کر کہا : میں آپ کے ساتھ ہونا چاہتا ہوں۔ آپ نے اس سے پوچھا : ” کیا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے ؟ “ اس نے کہا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : ” واپس جا میں مشرک سے مدد نہیں لوں گا۔ “ پھر آگے چلے۔ ایک آدمی اور ملا۔ اس نے بھی پہلے آدمی کی طرح کہا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے وہی سوال کیا جو پہلے سے کیا تھا۔ اس نے کہا : نہیں تو آپ نے اس کو بھی واپس جانے کو کہا اور فرمایا : ” میں مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا۔ “ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : وہ چلا گیا پھر بیداء کے مقام پر ایک آدمی ملا اس نے بھی پہلے آدمیوں کی طرح کہا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ” کیا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ہے ؟ “ اس نے ہاں میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا : ” چلو۔ “
امام شافعی فرماتے ہیں : جن کو واپس بھیجا گیا شائد ان کے اسلام لانے کی امید سے تھا اور اس میں قائد کے لیے وسعت ہے۔
بنو قینقاع کے یہودیوں سے بدر کے بعد جنگ ہوئی ہے اور صفوان بن امیہ آپ کے ساتھ حنین کی جنگ میں شریک تھا اور یہ فتح مکہ کے بعد ہوئی ہے اور اس وقت صفوان بن امیہ مشرک تھا۔
شیخ فرماتے ہیں : مغازی والوں کے ہاں صفوان بن امیہ کا شرک کی حالت میں جنگ میں شریک ہونا تو مشہور ہے۔ یہ پہلے گزر گیا ہے اور اس کا غزوہ بنو قینقاع میں شریک ہونا یہ میں نے حسن بن عمارہ کی حدیث کے سوا کہیں اور نہیں پایا اور یہ حدیث ضعیف ہے۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو قینقاع کے یہودیوں سے مدد لی اور ان کو کچھ مال دیا، لیکن ان کا حصہ مقرر نہیں کیا۔