(١٧٨٨١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تَہَیَّأَ لِلْحَرْبِ فَقَامَ فِیمَا أَمَرَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہِ مِنْ جِہَادِ عَدُوِّہِ وَقِتَالِ مَنْ أَمَرَہُ بِہِ مِمَّنْ یَلِیہِ مِنْ مُشْرِکِی الْعَرَبِ ۔ [ضعیف ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَإِنِ اخْتَلَفَ حَالُ الْعَدُوِّ فَکَانَ بَعْضُہُمْ أَنْکَی مِنْ بَعْضٍ أَوْ أَخْوَفَ مِنْ بَعْضٍ فَلْیَبْدَإِ الإِمَامُ بِالْعَدُوِّ الأَخْوَفِ أَوِ الأَنْکَی وَإِنْ کَانَتْ دَارُہُ أَبَعْدَ إِنْ شَائَ اللَّہُ وَتَکُونُ ہَذِہِ بِمَنْزِلَۃِ ضَرُورَۃٍ
قَالَ وَقَدْ بَلَغَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِی ضِرَارٍ أَنَّہُ یَجْمَعُ لَہُ فَأَغَارَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَیْہِ وَقُرْبَہُ عَدُوٌّ أَقْرَبُ مِنْہُ ۔
(١٧٨٨١) ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لڑائی کا ارادہ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جہاد ان دشمنوں سے شروع کیا جن سے آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے پہلے قریبی مشرکین سے لڑنے کا حکم دیا تھا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اگر دشمن کی حالت مختلف ہو یعنی بعض بعض سے زیادہ ضرر کا باعث ہوں اور زیادہ خوف کا باعث ہوں تو سپہ سالار لڑائی اس دشمن سے پہلے کرے گا جس سے خدشہ زیادہ ہو، اگرچہ وہ گھر کے لحاظ سے دور ہو اور یہ ضرورت کے وقت ہوگا۔
فرمایا : جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ملی کہ حارث بن ابی ضرار لشکر جمع کررہا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر رات کو حملہ کردیا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اردگرد دشمن تھے جو حارث بن ابی ضرار سے قریب تھے۔