(١٧٨٨٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَلَغَہُ أَنَّ بَنِی الْمُصْطَلِقِ یَجْمَعُونَ لَہُ وَقَائِدُہُمْ الْحَارِثُ بْنُ أَبِی ضِرَارٍ أَبُو جُوَیْرِیَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَسَارَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی نَزَلَ بِالْمُرَیْسِیعِ مَائٍ مِنْ مِیَاہِ بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَأَعَدُّوا لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَتَزَاحَفَ النَّاسُ فَاقْتَتَلُوا فَہَزَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَقَتَلَ مَنْ قَتَلَ مِنْہُمْ وَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَبْنَائَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ وَنِسَائَ ہُمْ وَأَقَامَ عَلَیْہِ مِنْ نَاحِیَۃِ قُدَیْدٍ إِلَی السَّاحِلِ ۔
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ غَزَاہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی شَعْبَانَ سَنَۃَ سِتٍّ ۔ [ضعیف ]
(١٧٨٨٢) عبداللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ملی کہ بنو مصطلق والے لشکر تیار کر رہے ہیں اور ان کی قیادت ام المؤمنین حضرت جویریہ (رض) کا باپ حارث بن ابی ضرار کررہا ہے تو آپ نکلے۔ جب مریسیع نامی کنویں پر گئے یہ بنو مصطلق کے کنوؤں میں سے ایک تھا۔ انھوں نے آپ کے ساتھ لڑائی کی تیاری کی اور لوگوں نے ایک دوسرے کے قریب ہونا شروع کیا۔ پھر لڑائی کی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو مصطلق کو شکست دی۔ کچھ ان میں سے قتل ہوئے اور ان کے بچے مال اور عورتیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زائد حاصل کیا اور قرید کے ساحل کی طرف سے ان پر حملہ کیا تھا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں : یہ چھ ہجری کو ہوا تھا۔