(١٧٨٨٤) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أُنَیْسٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی خَالِدِ بْنِ سُفْیَانَ الْہُذَلِیِّ وَکَانَ نَحْوَ عُرَنَۃَ وَعَرَفَاتٍ فَقَالَ : اذْہَبْ فَاقْتُلْہُ ۔ قَالَ فَرَأَیْتُہُ وَحَضَرَتْ صَلاَۃُ الْعَصْرِ فَقُلْتُ إِنِّی لأَخَافُ أَنْ یَکُونَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ مَا أَنْ أُؤَخِّرَ الصَّلاَۃَ فَانْطَلَقْتُ أَمْشِی وَأَنَا أُصَلِّی أُومِئُ إِیمَائً نَحْوَہُ فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْہُ قَالَ لِی : مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ بَلَغَنِی أَنَّکَ تَجْمَعُ لِہَذَا الرَّجُلِ فَجِئْتُکَ فِی ذَاکَ قَالَ إِنِّی لَفِی ذَاکَ فَمَشَیْتُ مَعَہُ سَاعَۃً حَتَّی إِذَا أَمْکَنَنِی عَلَوْتُہُ بِسَیْفِی حَتَّی بَرَدَ ۔ [ضعیف ]
(١٧٨٨٤) حضرت عبداللہ بن انیس (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے خالد بن سفیان کی طرف بھیجا۔ وہ عرنہ اور عرفات کی طرف تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جاؤ اسے قتل کرو۔ “ یہ کہتے ہیں : میں نے اس کو دیکھا اس وقت عصر کی نماز کا وقت آگیا۔ میں نے سوچا میرے اور اس کے درمیان معاملہ میں نماز کے مؤخر ہونے کا خدشہ ہے تو میں نماز کے لیے نکلا۔ میں اس طرف اشارہ کیا جب میں اس کے قریب ہوگیا تو اس نے مجھے کہا : تو کون ہے ؟ میں نے کہا : عرب ہوں۔ مجھے خبر ملی ہے کہ تو اس شخص کے خلاف لشکر جمع کررہا ہے تو میں بھی اسی سلسلہ میں تیرے پاس آیا ہوں۔ اس نے کہا : میں یہ کام کررہا ہوں تو میں کچھ دیر اس کے ساتھ چلا جب میں نے اس پر موقع پایا تو اپنی تلوار سے اس پر حملہ کردیا حتیٰ کہ وہ مرگیا۔