(١٧٨٨٣) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ وَأَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا سُلَیْمُ بْنُ أَخْضَرَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ : کَتَبْتُ إِلَی نَافِعٍ أَسْأَلُہُ عَنِ الدُّعَائِ قَبْلَ الْقِتَالِ قَالَ فَکَتَبَ إِنَّمَا کَانَ ذَاکَ فِی أَوَّلِ الإِسْلاَمِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَہُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُہُمْ تُسْقَی عَلَی الْمَائِ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَہُمْ وَسَبَی سَبْیَہُمْ وَأَصَابَ یَوْمَئِذٍ أَحْسِبُہُ قَالَ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ حَدَّثَنِی بِہَذَا الْحَدِیثِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَکَانَ فِی ذَلِکَ الْجَیْشِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَبَلَغَہُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ سُفْیَانَ بْنِ نُبَیْحٍ یَجْمَعُ لَہُ فَأَرْسَلَ ابْنَ أُنَیْسٍ فَقَتَلَہُ وَقُرْبَہُ عَدُوٌّ أَقْرَبُ مِنْہُ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٧٨٨٣) ابن عون کہتے ہیں : میں نافع کو سوال لکھ کر بھیجا کہ قتال (لڑائی) سے دعا کیا ہے ؟ انھوں نے لکھا : یہ ابتداء اسلام تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو مصطلق پر شب خون مارا (رات کو حملہ کیا) اور وہ بھی شب خون مارنے والے تھے جبکہ ان کے جانوروں کو پانی پلایا جا رہا تھا تو لڑائی کے اہل لوگوں کو قتل کردیا گیا اور بچوں کو قیدی بنایا گیا۔ اس دن جویریہ (رض) کو زخم بھی آیا تھا۔
امام شافعی فرماتے ہیں : جب یہ خبر آئی کہ خالد بن سفیان بن نبی ح لشکر تیار کررہا ہے تو اس طرف ابن انیس (رض) کو بھیجا گیا۔ انھوں نے اس کو قتل کردیا جبکہ اس سے قریب بھی دشمن موجود تھے۔