(١٧٩٠٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ وَیَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَصَابَ النَّاسَ سَنَۃٌ غَلاَ فِیہَا السَّمْنُ فَکَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَأْکُلُ الزَّیْتَ فَیُقَرْقِرُ بَطْنَہُ ۔ رِوَایَۃِ یَحْیَی قَالَ : وَکَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَأْکُلُہُ فَلَمَّا قَلَّ قَالَ لاَ آکُلُہُ حَتَّی یَأْکُلَہُ النَّاسُ ۔ قَالَ : فَکَانَ یَأْکُلُ الزَّیْتَ فَیُقَرْقِرُ بَطْنَہُ ۔ قَالَ ابْنُ مُکْرَمٍ فِی رِوَایَتِہِ فَقَالَ : قَرْقِرْ مَا شِئْتَ فَوَاللَّہِ لاَ تَأْکُلُ السَّمْنَ حَتَّی یَأْکُلَہُ النَّاسُ ثُمَّ قَالَ لِی : اکْسِرْ حَرَّہُ عَنِّی بِالنَّارِ فَکُنْتُ أَطْبُخُہُ لَہُ فَیَأْکُلُہُ ۔ [صحیح ]
(١٧٩٠٩) حضرت زید بن اسلم کے والد فرماتے ہیں : مسلمانوں پر ایک ایسا سال آیا جس میں گھی کی قیمت بڑھ گئی اور حضرت عمر (رض) پیٹ کی خرابی کی وجہ سے زیتون کھاتے تھے اور یحییٰ کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) تیل کھاتے تھے۔ جب وہ کم ہوگیا تو انھوں نے کہا : اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک لوگ نہ کھائیں۔ جبکہ آپ پیٹ کے بولنے کی وجہ سے تیل کھایا کرتے تھے۔ ابن مکرم کی روایت میں ہے کہ عمر (رض) نے پیٹ کو مخاطب کر کے کہا : جتنا چاہے بول اللہ کی قسم تو اس وقت تک گھی نہیں کھائے گا جب تک لوگ نہ کھائیں گے۔ پھر انھوں نے مجھے کہا : اس کی گرمی کو آگ سے ختم کرو میں آپ کے لیے اس کو پکاتا تھا اور آپ کھاتے تھے۔