(١٧٩١٠) حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ طَاوُسٍ وَعِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ : أَنَّ حَفْصَۃَ وَابْنَ مُطِیعٍ وَعَبْدَاللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَلَّمُوا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالُوا لَوْ أَکَلْتَ طَعَامًا طَیِّبًا کَانَ أَقْوَی لَکَ عَلَی الْحَقِّ قَالَ : أَکُلُّکُمْ عَلَی ہَذَا الرَّأْیِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ۔ قَالَ : قَدْ عَلِمْتُ أَنَّہُ لَیْسَ مِنْکُمْ إِلاَّ نَاصِحٌ وَلَکِنْ تَرَکْتُ صَاحِبَیَّ عَلَی جَادَّۃٍ فَإِنْ تَرَکْتُ جَادَّتَہُمَا لَمْ أُدْرِکْہُمَا فِی الْمَنْزِلِ ۔ قَالَ : وَأَصَابَ النَّاسَ سَنَۃٌ فَمَا أَکَلَ عَامَئِذٍ سَمْنًا وَلاَ سَمِینًا حَتَّی أَحْیَا النَّاسُ ۔ [صحیح ]
(١٧٩١٠) حضرت حفصہ اور ابن مطیع اور عبداللہ بن عمر (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور آپ سے کہا کہ اگر آپ اچھا کھانا کھائیں تو یہ آپ کو حق کا کام کرنے کے لیے مضبوط کرے گا تو حضرت عمر (رض) نے کہا : کیا تم سب کی یہی رائے ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں تو آپ نے فرمایا : میں جانتا ہوں تم میرے خیر خواہ ہو لیکن میں اپنے دونوں ساتھیوں کے راستہ کو چھوڑ دوں اور اگر میں نے ان کا طریقہ چھوڑ دیا تو میں قیامت کے دن ان کو نہیں پا سکوں گا۔ لوگوں پر تنگی کا سال آیا تو حضرت عمر (رض) نے پورا سال گھی نہیں کھایا اور نہ بھنا ہوا موٹا گوشت حتیٰ کہ لوگ جان میں آگئے اور ترو تازہ ہوگئے۔