(١٧٩١٢) وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ : أَنَّ عُتْبَۃَ بْنَ فَرْقَدٍ بَعَثَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ أَذَرْبَیْجَانَ بِخَبِیصٍ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَیَشْبَعُ الْمُسْلِمُونَ فِی رِحَالِہِمْ مِنْ ہَذَا فَقَالَ الرَّسُولُ اللَّہُمَّ لاَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لاَ أُرِیدُہُ وَکَتَبَ إِلَی عُتْبَۃَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّہُ لَیْسَ مِنْ کَدِّکَ وَلاَ مِنْ کَدِّ أَبِیکَ وَلاَ مِنْ کَدِّ أُمِّکَ فَأَشْبِعْ مَنْ قِبَلَکَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فِی رِحَالِہِمْ مِمَّا تَشْبَعُ مِنْہُ فِی رَحْلِکَ ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ فَذَکَرَہُ ۔ [حسن ]
(١٧٩١٢) ابو عثمان نہدی فرماتے ہیں : عتبہ بن قرفہ نے کچھ حلوہ حضرت عمر (رض) کو آذر بائی جان سے بھیجا تو آپ نے قاصد سے پوچھا : کیا مسلمان اس سے سیر ہوگئے ہیں ؟ تو اس نے کہا : نہیں تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مجھے یہ نہیں چاہیے اور عتبہ کو لکھا کہ یہ تیری کوشش و محنت سے نہیں ہے نہ تیرے ماں باپ کی کوشش سے ہے۔ پہلے ان مسلمانوں کو سیر کر جو تیرے پاس ہیں اپنے گھر اتنا دے جتنا تو نے اپنے گھر کے لیے رکھا ہے۔