(١٧٩١٤) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَعْنِی حِینَ حَاصَرَ أَہْلَ الطَّائِفَ فَلَمْ یَنَلْ مِنْہُمْ شَیْئًا إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَائَ اللَّہُ فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ کَیْفَ نَذْہَبُ وَلَمْ نَفْتَحْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : فَاغْدُوا لِلْقِتَالِ ۔ فَغَدَوْا عَلَیْہِمْ فَأَصَابَتْہُمْ جِرَاحَۃٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا ۔ فَأَعْجَبَہُمْ ذَلِکَ قَالَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٧٩١٤) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں : جس وقت طائف والوں کا محاصرہ کیا گیا اور نتیجتاً کچھ حاصل نہ ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہم انشاء اللہ کل واپس جائیں گے “ تو مسلمانوں نے کہا : کیسے واپس جائیں ہم کامیاب تو ہوئے نہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” صبح لڑائی کے لیے تیار رہو “ صبح انھوں نے ان پر حملہ کیا تو ان کو زخم لگے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہم کل واپس جائیں گے “ تو لوگوں نے اس کو پسند کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیے۔