(١٧٩١٩) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَازِعِ قَالَ سَمِعْتُ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ بَعْضِ بَنِی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ عُبَیْدُ اللَّہِ أُرَاہُ ثُمَامَۃَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَرَرْتُ یَوْمَ الْیَمَامَۃَ بِثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَہُوَ یَتَحَنَّطُ فَقُلْتُ : یَا عَمِّ أَمَّا تَرَی مَا یَلْقَی الْمُسْلِمُونَ أَیْ وَأَنْتَ ہَا ہَنُا ؟ قَالَ : فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ : الآنَ یَا ابْنَ أَخِی۔ فَلَبِسَ سِلاَحَہُ وَرَکِبَ فَرَسَہُ حَتَّی أَتَی الصَّفَّ فَقَالَ أُفٍّ لِہَؤُلاَئِ وَلِمَا یَصْنَعُونَ وَقَالَ لِلْعَدِوِّ أُفٍّ لِہَؤُلاَئِ وَلِمَا یَعْبُدُونَ خَلُّوا عَنْ سَبِیلِہِ أَوْ قَالَ سَنَنِہِ یَعْنِی فَرَسَہُ حَتَّی أَصْلَی بِحَرِّہَا فَحَمَلَ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ۔ [صحیح لغیرہ ]
(١٧٩١٩) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں : وہ یمامہ کی لڑائی کے دن ثابت بن قیس بن شماس کے پاس سے گزرے وہ مہندی لگا رہے تھے۔ میں نے کہا : آپ کو خبر نہیں کہ مسلمانوں پر کیا لاحق ہوگیا اور آپ یہاں ہیں۔ وہ مسکرائے اور کہا بھتیجے ابھی چلتے ہیں انھوں نے ہتھیار پہنے اور گھوڑے پر سوار ہوئے صفوں تک پہنچ گئے اور کہا افسوس ہے ان پر اور ان کے خون پر اور دشمن سے کہا : افسوس ہے ان پر اور جس کی یہ عبادت کرتے ہیں۔ انھوں نے ان کا راستہ چھوڑ دیا یا کہا کہ ان کے گھوڑے کا راستہ چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ گھمسان کی جنگ میں پہنچ گئے اور حملہ کیا لڑائی کی اور شہید ہوگئے۔