(١٧٩٢٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ : أَنَّ عِکْرِمَۃَ بْنَ أَبِی جَہْلٍ تَرَجَّلَ یَوْمَ کَذَا فَقَالَ لَہُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ لاَ تَفْعَلْ فَإِنَّ قَتْلَکَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ شَدِیدٌ۔ فَقَالَ : خَلِّ عَنِّی یَا خَالِدُ فَإِنَّہُ قَدْ کَانَتْ لَکَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَابِقَۃٌ وَإِنِّی وَأَبِی کُنَّا مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَمَشَی حَتَّی قُتِلَ ۔ [ضعیف ]
(١٧٩٢٠) ثابت بنانی سے روایت ہے کہ عکرمہ بن ابی جہل ایک لڑائی میں ایک دن پیدل چلنے لگے تو خالد بن ولید نے کہا : ایسا نہ کر تیرا قتل مسلمانوں پر گراں ہوگا۔ انھوں نے کہا : میرا راستہ چھوڑ دیں۔ اے خالد (رض) ! آپ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دینے میں مجھ سے آگے ہیں جبکہ میں اور میرا باپ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سب سے بڑے دشمن تھے وہ چلے اور شہید ہوگئے۔