(١٧٩٢٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ عَنْ حَیْوَۃَ بْنِ شُرَیْحٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ حَدَّثَنِی أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ قَالَ : کُنَّا بِالْقُسْطُنْطِینَۃِ وَعَلَی أَہْلِ مِصْرَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ وَعَلَی أَہْلِ الشَّأْمِ رَجُلٌ یُرِیدُ فَضَالَۃَ بْنَ عُبَیْدٍ فَخَرَجَ مِنَ الْمَدِینَۃِ صَفٌّ عَظِیمٌ مِنَ الرُّومِ فَصَفَفْنَا لَہُمْ فَحَمَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ عَلَی الرُّومِ حَتَّی دَخَلَ فِیہِمْ ثُمَّ خَرَجَ عَلَیْنَا فَصَاحَ النَّاسُ إِلَیْہِ فَقَالُوا : سُبْحَانَ اللَّہِ أَلْقَی بِیَدِہِ إِلَی التَّہْلُکَۃِ فَقَامَ أَبُو أَیُّوبَ الأَنْصَارِیُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّکُمْ لَتُأَوِّلُونَ ہَذِہِ الآیَۃَ عَلَی ہَذَا التَّأْوِیلِ إِنَّمَا أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ فِینَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ إِنَّا لَمَّا أَعَزَّ اللَّہُ دِینَہُ وَکَثُرَ نَاصِرُوہُ فَقُلْنَا فِیمَا بَیْنَنَا بَعْضُنَا لِبَعْضٍ سِرًّا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِنَّ أَمْوَالَنَا قَدْ ضَاعَتْ فَلَوْ أَقْمَنَا فِیہَا فَأَصْلَحْنَا مَا ضَاعَ مِنْہَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ یَرُدُّ عَلَیْنَا مَا ہَمَمْنَا بِہِ فَقَالَ { وَأَنْفِقُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَلاَ تُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] فَکَانَتِ التَّہْلُکَۃُ فِی الإِقَامَۃِ الَّتِی أَرَدْنَا أَنْ نُقِیمَ فِی أَمْوَالِنَا نُصْلِحُہَا فَأُمِرْنَا بِالْغَزِو فَمَا زَالَ أَبُو أَیُّوبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ غَازِیًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ حَتَّی قَبَضَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ۔ [صحیح ]
(١٧٩٢٥) حضرت اسلم ابو عمران کہتے ہیں : ہم قسطنطنیہ میں تھے۔ اس وقت امیر عقبہ بن عامر تھے اور شام میں ایک اور آدمی امیر تھا جس کا نام فضالہ بن عبید تھا۔ روم سے ایک بڑا لشکر نکلا۔ ہم نے ان کے لیے صف بندی کی۔ ایک مسلمان نے رومیوں پر حملہ کیا۔ وہ ان کے پاس داخل ہوا پھر باہر آیا تو لوگ اس کو چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے : اس نے خود کو ہلاکت میں ڈال دیا ہے۔ ابوایوب الانصاری (رض) کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ یہ کچھ انصاریوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جب دین کی عزت اور مدد گار زیادہ ہوگئے تو ہم بعض ساتھیوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوشیدہ رکھ کر بات کی کہ ہمارے مال ضائع ہوگئے ہیں، اگر ہم وہاں ہوں ان کی اصلاح ہو سکے تو اللہ نے ہماری سوچ کی تریدید اس قول سے کی ہے : { وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] ” اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو ! “ ہلاکت اس میں تھی جو ہم ارادہ کیا کہ اپنے اموال کی اصلاح کے لیے وہیں رہیں۔ ہمیں جہاد کا حکم دیا گیا۔ پھر ابوایوب وفات تک جہاد میں مشغول رہے۔