hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 17944

.

سنن البيهقي

17944
Sunan Al Bayhaqi
(١٧٩٣٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَائٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی { خُذُوا حِذْرَکُمْ فَانْفِرُوا ثُبَاتٍ } [النساء ٧١] عُصَبًا { أَوِ انْفِرُوا جَمِیعًا } [النساء ٧١] وَقَالَ { انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالاً } [التوبۃ ٤١] وَقَالَ {إِلاَّ تَنْفِرُوا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا أَلِیمًا } [التوبۃ ١٢٢] ثُمَّ نَسَخَ ہَذِہِ الآیَاتِ فَقَالَ { وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِیَنْفِرُوا کَافَّۃً } [التوبۃ ١٢٢] قَالَ فَتَغْزُو طَائِفَۃٌ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَتُقِیمُ طَائِفَۃٌ قَالَ فَالْمَاکِثُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ہُمُ الَّذِینَ یَتَفَقَّہُونَ فِی الدِّینِ وَیُنْذِرُونَ قَوْمَہُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَیْہِمْ مِنَ الْغَزْوِ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُونَ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ مِنْ کِتَابِہِ وَفَرَائِضِہِ وَحُدُودِہِ ۔ [ضعیف ]
(١٧٩٣٨) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَکُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ } [النساء ٧١] ” اے ایمان والو ! اپنے بچاؤ کا سامان پکڑو۔ پھر دستوں کی صورت میں نکلو۔ “ ابن عباس کہتے ہیں : ثبات کا معنی جماعت ہے اے ایمان والو ! { اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا ۔ } [النساء ٧١]” یا اکٹھے ہو کر نکلو۔ “ اور فرمایا { اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا } [التوبۃ ٤١] ” نکلو ہلکے اور بوجھل “ اور فرمایا : { اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا } [التوبۃ ٣٩] ” اگر تم نہ نکلو تو تمہیں دردناک عذاب دے گا۔ “ پھر ان آیات کو منسوخ کردیا اور فرمایا : { وَ مَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا } [التوبۃ ١٢٢] ” اور ممکن نہیں ہے کہ مومن سب کے سب نکل جائیں “ اور فرمایا : ایک گروہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ محاذ پر اور ایک پیچھے رہتا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہنے والے دین کی سمجھ رکھنے والے ہیں اور وہ قوم کو ڈراتے ہیں جب ان کے پاس آتے ہیں تاکہ وہ ڈرتے رہیں اس بارے میں جو اللہ نے نازل کیا ہے۔ یہ فرائض اور حدود کے معاملہ میں ہے۔