(١٧٩٣٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ یَزِیدَ النَّحْوِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ {إِلاَّ تَنْفِرُوا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا أَلِیمًا } [التوبۃ ٣٩] { وَمَا کَانَ لأَہْلِ الْمَدِینَۃِ وَمَنْ حَوْلَہُمْ مِنَ الأَعْرَابِ أَنْ یَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ } إِلَی قَوْلِہِ { یَعْمَلُونَ } [التوبۃ ١٢٠۔ ١٢١] نَسَخَتْہَا الآیَۃُ الَّتِی تَلِیہَا { وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِیَنْفِرُوا کَافَّۃً } [التوبۃ : ١٢٢] ۔ [ضعیف ]
(١٧٩٣٧) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ آیت : { اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا } [التوبۃ ٣٩]” اگر تم نہ نکلو تو تمہیں دردناک عذاب دے گا۔ “ اور یہ فرمایا : { مَا کَانَ لِاَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ وَ مَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِاَنْ یَّتَخَلَّوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہ } { یَعْمَلُوْنَ ۔ } تک [التوبۃ ١٢٠۔ ١٢١] ” مدینہ والوں کا اور ان کے اردگرد جو دیہاتی ہیں ان کا حق نہ تھا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پیچھے رہتے۔ “ ان دونوں آیات کو آئندہ آنے والی آیت نے منسوخ کردیا ہے۔ وہ یہ ہے : { وَ مَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ } [التوبۃ ١٢٢]” اور ممکن نہیں ہے کہ مومن سب کے سب نکل جائیں سو ان کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ کیوں نہ نکلے “