(١٧٩٦٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الأُمَوِیُّ وَأَبُو الْفَضْلِ : الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ الْعَدْلُ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ سَمِعْتُ قَیْسًا وَہُوَ ابْنُ سَعْدٍ یُحَدِّثُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ : أَنَّ نَجْدَۃَ بْنَ عَامِرٍ کَتَبَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنِ اکْتُبْ إِلَیَّ مَنْ ذَوُو الْقُرْبَی الَّذِینَ ذَکَرَہُمُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَرَضَ لَہُمْ فِیمَّا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ وَمَتَی یَنْقَضِی یُتْمُ الْیَتِیمِ وَہَلْ یُقْتَلُ صِبْیَانُ الْمُشْرِکِینَ وَہَلْ لِلنِّسَائِ وَالْعَبِیدِ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ مِنْ سَہْمٍ مَعْلُومٍ ۔ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَوْلاَ أَنِّی أَخَافُ أَنْ یَقَعَ فِی شَیْئٍ مَا کَتَبْتُ إِلَیْہِ فَکَتَبَ إِلَیْہِ وَأَنَا شَاہِدٌ أَمَّا ذَوُو الْقُرْبَی فَإِنَّا کُنَّا نَرَی أَنَّہُمْ قَرَابَۃُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَبَی ذَلِکَ عَلَیْنَا قَوْمُنَا وَأَمَّا صِبْیَانُ الْمُشْرِکِینَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمْ یَقْتُلْ مِنْہُمْ أَحَدًا فَلاَ تَقْتُلْ إِلاَّ أَنْ تَعْلَمَ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الْغُلاَمِ الَّذِی قَتَلَہُ وَأَمَّا مَا سَأَلْتَ عَنِ انْقِضَائِ یُتْمِ الْیَتِیمِ فَإِذَا بَلَغَ الْحُلُمَ وَأُونِسَ مِنْہُ رُشْدُہُ فَقَدِ انْقَضَی یُتْمُہُ فَادْفَعْ إِلَیْہِ مَالَہُ وَأَمَّا النِّسَائُ وَالْعَبِیدُ فَلَمْ یَکُنْ لَہُمْ سَہْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ وَلَکِنْ یُحْذَوْنَ مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
(١٧٩٦٦) نجدہ بن عامر نے حضرت عبداللہ بن عباس کو خط لکھا کہ مجھے بتاؤ وہ کون سے رشتہ دار ہیں جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے ان کو مال فیٔ میں سے دیا جائے گا جو اللہ نے رسول کو بغیر جنگ کے عطا کیا ہے اور یتیم کی یتیمی کب ختم ہوگی، کیا مشرکین کے بچوں کو قتل کیا جائے گا ؟ اگر عورتوں اور غلام جنگ میں جائیں تو کیا ان کے لیے حصہ مقرر ہے ؟ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ یہ اس میں مبتلا ہوجائے تو میں نہ لکھتا تو انھوں نے لکھا، میں وہاں موجود تھا کہ رشتے داروں سے مراد ہمارے نزدیک صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رشتہ دار ہیں جبکہ ہماری قوم نے اس کا انکار بھی کیا ہے۔ رہے مشرکین کے بچے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی بچے کو قتل نہیں کیا تو تم بھی قتل نہ کرو۔ ہاں اگر تم جان لو جو خضر نے جانا تھا جس بچے کو اس نے قتل کیا تھا اور یتیمی کی آخری مدت احتلام کا آنا یا سمجھداری کا پتہ چلنا ہے تو اس کی یتیمی ختم ہوگئی۔ اب ان کا مال ان کو دے دو اور اگر عورتیں اور بچے جنگ میں جائیں تو ان کے لیے مقرر حصہ تو نہیں ہے ہاں ان کو غنیمت میں سے کچھ تحفۃً دے دو ۔