(١٧٩٦٧) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الطَّیِّبِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْحَسَنِ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ عَمَّارٍ الْعَتَکِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ أَبِی جَعْفَرٍ وَالزُّہْرِیِّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ قَالَ : فِیمَا کَتَبَ إِلَیْہِ نَجْدَۃُ فِی کِتَابِہِ ذَلِکَ یَسْأَلُہُ عَنِ الْیَتِیمِ مَتَی یَخْرُجُ مِنَ الْیُتْمِ وَیَقَعُ حَقُّہُ فِی الْفَیْئِ فَکَتَبَ إِلَیْہِ : إِنَّہُ إِذَا احْتَلَمَ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْیُتْمِ وَوَقَعَ حَقُّہُ فِی الْفَیْئِ ۔
(١٧٩٦٧) یزید بن ہرمز فرماتے ہیں کہ نجدہ نے اس کی طرف خط لکھا تھا۔ میں یہ بھی تھا کہ یتیم کب یتیمی کی عمر سے نکل جاتا ہے اور اس کا حق مال فیٔ میں ثابت ہوجاتا ہے تو عبداللہ بن عباس نے ان کو لکھا کہ بالغ ہونے پر یتیم کی یتیمی ختم ہوجاتی ہے اور مال فیٔ میں اس کا حق ثابت ہوجاتا ہے۔