(١٧٩٧٥) وَأَمَّا بَعْثُہُ الْوَلِیدَ مُصَدِّقًا فَفِیمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ کَامِلٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی سَعْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِیَّۃَ حَدَّثَنِی عَمِّی الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَطِیَّۃَ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ جَدِّی عَطِیَّۃَ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ الْوَلِیدَ بْنَ عُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ إِلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ لِیَأْخُذَ مِنْہُمُ الصَّدَقَاتِ وَإِنَّہُ لَمَّا أَتَاہُمُ الْخَبَرُ فَرِحُوا وَخَرَجُوا لِیَتَلَقَّوْا رَسُولَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَإِنَّہُ لَمَّا حُدِّثَ الْوَلِیدُ أَنَّہُمْ خَرَجُوا یَتَلَقَّوْنَہُ رَجَعَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ بَنِی الْمُصْطَلِقِ قَدْ مَنَعُوا الصَّدَقَۃَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ ذَلِکَ غَضَبًا شَدِیدًا فَبَیْنَمَا ہُوَ یُحَدِّثُ نَفْسَہُ أَنْ یَغْزُوہُمْ إِذْ أَتَاہُ الْوَفْدُ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا حُدِّثْنَا أَنَّ رَسُولَکَ رَجَعَ مِنْ نِصْفِ الطَّرِیقِ وَإِنَّا خَشِینَا أَنْ یَکُونَ إِنَّمَا رَدَّہُ کِتَابٌ جَائَ ہُ مِنْکَ لِغَضَبٍ غَضِبْتَہُ عَلَیْنَا وَإِنَّا نَعُوذُ بِاللَّہِ مِنْ غَضِبِ اللَّہِ وَغَضِبِ رَسُولِہِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - اسْتَغْشَہُمْ وَہَمَّ بِہِمْ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عُذْرَہُمْ فِی الْکِتَابِ فَقَالَ { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ جَائَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا أَنْ تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوا عَلَی مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِینَ } [الحجرات ٦] ۔ [ضعیف جدًا ]
(١٧٩٧٥) ولید بن عقبہ کے صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجنے کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو بنو مصطلق کی طرف صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ جب ان کے پاس ان کے آنے کی خبر آتی تو وہ خوش ہوتے اور اس کا استقبال کرنے کے لیے نکلتے۔ تاکہ اللہ کے رسول کے قاصد کا استقبال کریں جب ولید (رض) کو بتایا کہ وہ استقبال کے لیے آتے ہیں تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لوٹے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! انھوں نے زکوۃ کو روک لیا ہے۔ آپ ناراض ہوئے۔ ابھی آپ ان سے لڑائی کا سوچ رہے تھے کہ بنو مصطلق کا وفد آگیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں پتہ چلا ہے کہ آپ کا قاصد آدھا سفر کر کے واپس چلا گیا ہے۔ ہم ڈرے کہ اس کا لوٹنا آپ کے کسی خط کی وجہ سے کسی غصہ کی وجہ سے جو آپ کو ہم پر آیا ہو اور ہم اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے چھپا رہے تھے اور ان پر حملہ کا ارادہ رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کا عذر نازل فرما دیا۔ فرمایا : { یاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۔۔۔} [الحجرات ٦] ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کرلو۔ ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی کی وجہ سے نقصان پہنچا دو ۔ پھر جو تم نے کیا اس پر پشیمان ہو جاؤ۔ “