(١٧٩٧٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِی مُوسَی الْہَمْدَانِیِّ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَکَّۃَ جَعَلَ أَہْلُ مَکَّۃَ یَأْتُونَہُ بِصِبْیَانِہِمْ فَیَمْسَحُ رُئُ وسَہُمْ وَیَدْعُو لَہُمْ فَجِیئَ بِی إِلَیْہِ وَقَدْ خُلِّقْتُ بِالْخَلُوقِ فَلَمَّا رَآنِی لَمْ یَمَسَّنِی وَلَمْ یَمْنَعْہُ مِنْ ذَلِکَ إِلاَّ الْخَلُوقُ الَّذِی خَلَّقَتْنِی أُمِّی۔ [ضعیف ]
(١٧٩٧٧) ولید بن عقبہ (رض) فرماتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کیا تو مکہ والے اپنے بچوں کو آپ کے پاس لاتے آپ ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لیے دعا کرتے۔ مجھے بھی لایا گیا میرے سر پر زعفران کی خوشبو لگائی گئی تھی۔ جب آپ نے مجھے دیکھا تو مجھے نہ چھوا۔ آپ نے زعفرانی خوشبو کی وجہ سے مجھے ہاتھ نہ لگایا جو میری ماں نے لگایا تھا۔