hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 17985

.

سنن البيهقي

17985
Sunan Al Bayhaqi
(١٧٩٧٩) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْحَجَبِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ صُہَیْبٍ وَثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - صَلَّی الصُّبْحَ بِغَلَسٍ ثُمَّ رَکِبَ فَقَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ خَرِبَتْ خَیْبَرُ إِنَا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِینَ ۔ فَخَرَجُوا یَسْعَوْنَ فِی السِّکَکِ وَہُمْ یَقُولُونَ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِیسُ ۔ قَالَ مُسَدَّدٌ قَالَ حَمَّادٌ : وَالْخَمِیسُ الْجَیْشُ فَظَہَرَ عَلَیْہِمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَتَلَ الْمُقَاتِلَۃَ وَسَبَی الذَّرَارِیَّ فَصَارَتْ صَفِیَّۃُ لِدِحْیَۃَ الْکَلْبِیِّ ثُمَّ صَارَتْ صَفِیَّۃُ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ تَزَوَّجَہَا وَجَعَلَ صَدَاقَہَا عِتْقَہَا۔ قَالَ عَبْدُ الْعَزِیزِ لِثَابِتٍ : یَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسًا مَا أَمْہَرَہَا ؟ فَقَالَ : أَمْہَرَہَا نَفْسَہَا۔ فَتَبَسَّمَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٧٩٧٩) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھی۔ پھر آپ سوار ہوئے اور فرمایا : ” اللہ اکبر خیبر برباد ہوگیا۔ جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے لوگوں کی یہ صبح بہت بری ہے۔ “ وہ نکلے گلیوں میں چل رہے تھے اور کہہ رہے تھے : محمد اور اس کا لشکر۔ حماد کہتے ہیں : خمیس لشکر کو کہتے ہیں۔ آپ نے ان پر غلبہ حاصل کیا اور جوانوں کو قتل کیا اور بچوں کو قیدی بنایا۔ صفیہ دحیہ کلبی کے حصہ میں آئی۔ پھر اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حصہ میں دے دیا گیا۔ آپ نے اس سے نکاح کیا اور آزادی کو حق مہر قرار دیا۔ عبدالعزیز نے ثابت سے پوچھا : کیا تو نے انس سے پوچھا تھا کہ آپ نے مہر کیا رکھا تو انھوں نے کہا : آپ نے اس کا مہر اس کے نفس کی آزادی رکھا تھا تو وہ مسکرا دیے۔