(١٧٩٨٥) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی الأَشْدَقِ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ أَبِی سَلاَّمٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی بَدْرٍ فَلَقِیَ بِہَا الْعَدُوَّ فَلَمَّا ہَزَمَہُمُ اللَّہُ اتَّبَعَتْہُمْ طَائِفَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ یَقْتُلُونَہُمْ وَأَحْدَقَتْ طَائِفَۃٌ بِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَاسْتَوْلَتْ طَائِفَۃٌ عَلَی النَّہْبِ وَالْعَسْکَرِ فَلَمَّا رَجَعَ الَّذِینَ طَلَبُوا الْعَدُوَّ قَالُوا لَنَا النَّفْلُ نَحْنُ طَلَبْنَا الْعَدُوَّ وَبِنَا نَفَاہُمُ اللَّہُ وَہَزَمَہُمْ وَقَالَ الَّذِینَ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِہِ مِنَّا بَلْ ہُوَ لَنَا نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یَنَالَہُ مِنَ الْعَدُوِّ غِرَّۃٌ وَقَالَ الَّذِینَ اسْتَوْلَوْا عَلَی الْعَسْکَرِ وَالنَّہْبِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِہِ مِنَّا بَلْ ہُوَ لَنَا نَحْنُ اسْتَوْلَیْنَا عَلَیْہِ وَأَحْرَزْنَاہُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَی رَسُولِہِ عَلَیْہِ السَّلاَمُ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ } [الأنفال ١] الآیَۃَ فَقَسَمَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَیْنَہُمْ عَنْ فَوَاقٍ ۔ [ضعیف ]
(١٧٩٨٥) حضرت عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کی طرف نکلے۔ دشمن سے آمنا سامنا ہوا۔ جب اللہ نے دشمن کو شکست دے دی تو مسلمان کے ایک لشکر نے دشمن کا پیچھا کیا۔ وہ ان کو قتل کرتا تھا اور ایک دستہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھیرے میں لیے ہوئے تھا۔ ایک دستہ مال غنیمت اور لشکر پر قبضہ کررہا تھا۔ جب دشمن کا تعاقب کرنے والے لوٹے تو انھوں نے کہا : غنیمت ہمارے لیے ہیں کیونکہ ہم نے دشمن کا تعاقب کیا ہے اور ہمارے ذریعہ اللہ نے ان کو بھگا دیا اور ان کو شکست دی۔ جنہوں نے آپ کو گھیرے میں لے رکھا تھا انھوں نے کہا : تم ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو ؟ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھیرے رکھا کہ کہیں ان کو دشمن کو نقصان نہ پہنچائے اور جنہوں نے مال غنیمت اور لشکر پر قبضہ کیا انھوں نے کہا : تم ہم سے زیادہ حق دار نہیں۔ ہم نے اس پر قبضہ کیا اور اس کی حفاظت کی ہے تو اللہ تعالیٰ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل کی : { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ } [الأنفال ١] ” وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ کچھ دیر بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال غنیمت کو ان میں برابر تقسیم کردیا۔