(١٧٩٨٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی الأَشْدَقِ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ قَالَ : سَأَلَتُ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ الأَنْفَالِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَاہُ قَالَ فِی آخِرِہِ فَلَمَّا اخْتَلَفْنَا وَسَائَ تْ أَخْلاَقُنَا انْتَزَعَہُ اللَّہُ مِنْ أَیْدِینَا فَجَعَلَہُ إِلَی رَسُولِہِ فَقَسَمَہُ عَلَی النَّاسِ عَنْ بَوَائٍ فَکَانَ فِی ذَلِکَ تَقْوَی اللَّہِ وَطَاعَتُہُ وَطَاعَۃُ رَسُولِہِ وَصَلاَحُ ذَاتِ الْبَیْنِ یَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّہَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَیْنِکُمْ } [الأنفال ١]
وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الزُّہْرِیَّ یَقُولُ : أُنْزِلَتْ سُورَۃُ الأَنْفَالِ بِأَسْرِہَا فِی أَہْلِ بَدْرٍ ۔ [ضعیف ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَکَانَتْ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کُلَّہَا خَالِصًا وَقَسَمَہَا بَیْنَہُمْ وَأَدْخَلَ مَعَہُمْ ثَمَانِیَۃَ نَفَرٍ لَمْ یَشْہَدُوا الْوَقْعَۃَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ وَقَالَ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ سَبْعَۃً أَوْ ثَمَانِیَۃً ۔
(١٧٩٨٦) حضرت ابو امامہ باہلی (رض) نے عبادہ بن صامت سے انفال کے بارے میں سوال کیا، اس کے آخر میں ہے کہ جب ہم نے اختلاف کیا اور ہمارا رویہ برا ہوگیا تو اللہ نے ہمارے ہاتھوں سے چھین لیا اور اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لوٹا دیا۔ آپ نے اس کو لوگوں میں برابر تقسیم کردیا۔ یہ اللہ سے ڈر میں تھا اور اللہ اور رسول کی اطاعت میں لوگوں کے درمیان صلح کا طریقہ تھا۔ اللہ فرماتے ہیں : { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْ } [الأنفال ١]” وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں سو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو۔
ابن اسحاق کہتے ہیں : میں نے زہری (رض) سے سنا ہے، سورة انفال مکمل بدر والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : غنیمت کا سارا مال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تھا۔ آپ نے اس کو لوگوں میں تقسیم کیا اور اس میں آٹھ ایسے گروہ شامل کیے جو غزوہ میں موجود نہ تھے۔ جن کا تعلق مہاجرین و انصار سے تھا ایک مقام پر سات یا آٹھ کا ذکر ہے۔