(١٨٠٠٨) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالُوَیْہِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَۃَ الْعَطَّارُ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ : یَا أَبَا سَعِیدٍ إِنِّی امْرُؤٌ مَتْجَرِی بِالأُبُلَّۃِ وَإِنِّی أَمْلأُ بَطْنِی مِنَ الطَّعَامِ فَأَصْعَدُ إِلَی أَرْضِ الْعَدُوِّ فَآکُلُ مِنْ تَمْرِہِ وَبُسْرِہِ فَما تَرَی ؟
قَالَ الْحَسَنُ : غَزَوْتُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَۃَ وَرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانُوا إِذَا صَعِدُوا إِلَی الثِّمَارِ أَکَلُوا مِنْ غَیْرِ أَنْ یُفْسِدُوا أَوْ یَحْمِلُوا۔ [ضعیف ]
(١٨٠٠٨) ابو حمزہ عطار نے حسن سے سوال کیا : اے ابو سعید ! میں ایسا آدمی ہوں جس کی تجارت کا مقام (ابلہ) کی جگہ ہے۔ میں اپنا کھانے بھر لیتا ہوں۔ پھر دشمن کے علاقہ میں جاتا ہوں اور وہاں خشک اور تر کھجور کھاتا ہوں۔ اس کو آپ کیسا دیکھتے ہو ؟ تو حسن نے کہا : ہم عبدالرحمن بن سمرہ کے ساتھ غزوہ میں شریک تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی بھی موجود تھے۔ جب وہ پھلوں کی طرف چڑھتے تو اس سے کھالیتے تھے مگر خراب نہیں کرتے تھے اور نہ ساتھ اٹھاتے تھے۔