(١٨٠١٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْمَعْمَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : انْتَہَیْتُ إِلَی أَبِی جَہْلٍ وَہُوَ صَرِیعٌ وَعَلَیْہِ بَیْضَۃٌ وَمَعَہُ سَیْفٌ جَیِّدٌ وَمَعِی سَیْفٌ رَدِیٌّ فَجَعَلْتُ أَنْقُفُ رَأْسَہُ بِسَیْفِی وَأَذْکُرُ نَقْفًا کَانَ یَنْقُفُ رَأْسِی بِمَکَّۃَ حَتَّی ضَعُفَتْ یَدُہُ فَأَخَذْتُ سَیْفَہُ فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ : عَلَی مَنْ کَانَتِ الدَّبْرَۃُ ؟ أَکَانَتْ لَنَا أَوْ عَلَیْنَا أَلَسْتَ رُوَیْعِیَنَا بِمَکَّۃَ ؟ قَالَ فَقَتَلْتُہُ ثُمَّ أَتَیْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقُلْتُ : قَتَلْتُ أَبَا جَہْلٍ ۔ قَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -: آللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ قَتَلْتَہُ ؟ فَاسْتَحْلَفَنِی ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَامَ مَعِی إِلَیْہِمْ فَدَعَا عَلَیْہِمْ ۔ [ضعیف ]
(١٨٠١٣) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں : میں ابو جہل کے پاس پہنچا، وہ نیم مردہ حالت میں تھا۔ اس کے سر پر خود تھا اور اس کے پاس عمدہ تلوار تھی اور میری تلوار ہلکی تھی۔ میں اپنی تلوار سے اس کے سر پر مارا اس وقت مجھے مکہ میں اس کا مجھے مارنا یاد آیا۔ میں نے اتنا مارا کہ اس کا ہاتھ کمزور ہوگیا۔ میں نے اس کی تلوار پکڑ لی۔ اس نے سر اٹھایا اور کہا : شکست کس کو ہوئی ؟ کیا ہمیں یا ان کو اور مجھے کہا : کیا تو مکہ میں ہمارا چرواہا نہیں تھا۔ عبداللہ (رض) فرماتے ہیں : میں نے اس کو قتل کردیا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے اس کو قتل کردیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم وہ اللہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے کیا تو نے اس کو قتل کیا ہے ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین دفعہ مجھ سے قسم لی۔ پھر میرے ساتھ گئے۔ پھر ان کے لیے بددعا کی۔