(١٨٠٢٣) وَأَمَّا مَا قَالَ فِی وِلْدَانِ بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَفِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ وَمُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ : کَتَبْتُ إِلَی نَافِعٍ أَسْأَلُہُ عَنِ الدُّعَائِ قَبْلَ الْقِتَالِ قَالَ إِنَّمَا کَانَ ذَلِکَ الدُّعَائُ فِی أَصْلِ الإِسْلاَمِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَہُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُہُمْ تُسْقَی عَلَی الْمَائِ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَہُمْ وَسَبَی سَبْیَہُمْ وَأَصَابَ یَوْمَئِذٍ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ
حَدَّثَنِی بِہَذَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَکَانَ فِی ذَلِکَ الْجَیْشِ ۔
وَفِی رِوَایَۃِ یَزِیدَ إِنَّمَا ذَلِکَ بَعْدَ الدُّعَائِ فِی أَوَّلِ الإِسْلاَمِ وَالْبَاقِی سَوَائٌ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنِ ابْنِ أَبِی عَدِیٍّ ۔
وَقَدْ مَضَی فِی حَدِیثِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ : غَزَوْنَا الْمُصْطَلِقَ فَسَبَیْنَا کَرَائِمَ الْعَرَبِ فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ لاَ عَلَیْکُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٠٢٣) ابن عون فرماتے ہیں : میں نے نافع کو لڑائی سے پہلے دعوت کے بارے میں سوال لکھ کر بھیجا انھوں نے کہا : دعوت دینا اسلام کی بنیاد ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو مصطلق پر شب خون مارا کیونکہ وہ بھی اس کے لیے تیار تھے۔ اس وقت جانوروں کو پانی پلایا جا رہا تھا۔ آپ نے جنگجوؤں کو قتل کیا، بچوں کو قیدی بنایا اور اسی دن آپ کو حضرت جویریہ بنت حارث ملی تھیں۔