hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18030

.

سنن البيهقي

18030
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٠٢٤) وَأَمَّا مَا قَالَ فِی ہَوَازِنَ فَفِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ وَہُوَ ابْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِی ابْنُ أَخِی ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَمِّہِ قَالَ وَزَعَمَ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ أَخْبَرَاہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَامَ حِینَ جَائَ ہُ وَفْدُ ہَوَازِنَ مُسْلِمِینَ فَسَأَلُوہُ أَنْ یَرُدَّ إِلَیْہِمْ أَمْوَالَہُمْ وَسَبْیَہُمْ فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَعِی مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِیثِ إِلَیَّ أَصْدَقُہُ فَاخْتَارُوا إِحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ إِمَّا السَّبْیَ وَإِمَّا الْمَالَ وَقَدِ اسْتَأْنَیْتُ بِکُمْ وَکَانَ أَنْظَرَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِضْعَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً حِینَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - غَیْرُ رَادٍّ إِلَیْہِمْ إِلاَّ إِحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْیَنَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی الْمُسْلِمِینَ فَأَثْنَی عَلَی اللَّہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَتَکُمْ قَدْ جَائُ وا تَائِبِینَ وَإِنِّی قَدْ رَأَیْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَیْہِمْ سَبْیَہُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ یُطَیِّبَ ذَلِکَ فَلْیَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ یَکُونَ عَلَی حَظِّہِ حَتَّی نُعْطِیَہُ إِیَّاہُ مِنْ أَوَّلِ مَا یُفِیئُ اللَّہُ عَلَیْنَا ۔ فَقَالَ النَّاسُ : قَدْ طَیَّبْنَا ذَلِکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّا لاَ نَدْرِی مَنْ أَذِنَ مِنْکُمْ مِمَّنْ لَمْ یَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّی یَرْفَعَ إِلَیْنَا عُرَفَاؤُکُمْ ۔ فَرَجَعَ النَّاسُ فَکَلَّمَہُمْ عُرَفَاؤُہُمْ فَرَجَعُوا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَخْبَرُوہُ أَنَّہُمْ قَدْ طَیَّبُوا وَأَذِنُوا ہَذَا الَّذِی بَلَغَنِی عَنْ سَبْیِ ہَوَازِنَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَأَسَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَہْلَ بَدْرٍ فَمِنْہُمْ مَنْ مَنَّ عَلَیْہِ بِلاَ شَیْئٍ أَخَذَہُ مِنْہُ وَمِنْہُمْ مَنْ أَخَذَ مِنْہُ فِدْیَۃً وَمِنْہُمْ مَنْ قَتَلَہُ وَکَانَ الْمَقْتُولاَنِ بَعْدَ الإِسَارِ یَوْمَ بَدْرٍ عُقْبَۃُ بْنُ أَبِی مُعَیْطٍ وَالنَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ ۔[صحیح۔ بخاری ٤٣١٩]
(١٨٠٢٤) عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ بیان کرتے ہیں کہ ہوازن کے وفد نے رسول اللہ سے اپنے مال و قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو رسول اللہ نے فرمایا : مجھے اور میرے ساتھیوں کو سچی بات زیادہ محبوب ہے۔ تمہیں دونوں میں سے ایک چیز کا اختیار ہے (مال یا قیدی) اور میں تمہیں مہلت دیتا ہوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف سے واپسی پر دس راتوں کی مہلت دی۔ جب انھیں یقین ہوگیا کہ آپ صرف ایک چیز واپس کریں گے تو انھوں نے قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کردیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی تعریف فرمائی جس کا وہ اصل حق دار تھا پھر فرمایا : امابعد ! تمہارے بھائی توبہ کر کے آگئے ہیں میں ان کے قیدی واپس کرنا چاہتا ہوں۔ جو تم میں سے دل کی خوشی سے یہ کام کرنا چاہتا ہے تو کرلے اور جو کوئی ان کا عوض لینا چاہے تو ہم پہلے مال فیٔ سے اس کا بدل واپس کردیں گے تو لوگوں نے کہا : ہم نے دل کی خوشی سے واپس کردیے، اے اللہ کے رسول ! تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمیں معلوم نہ ہوسکا کون اجازت دیتا ہے اور کون نہیں۔ تم اپنے سرداروں کو بتاؤ، وہ ہمیں خبر دیں تو لوگوں نے اپنے چوہدریوں سے بات کی تو انھوں نے رسول اللہ کو بتایا کہ لوگوں نے خوشی سے اجازت دے دی ہے۔ یہ حدیث مجھے ہوازن کے قیدیوں کے بارے میں پہنچی۔
(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے کر چھوڑا، بعض سے کچھ بھی نہ لیا اور بعض کو قتل بھی کروا دیا۔ رسول اللہ نے بدر کے دو قیدیوں کو قتل کروایا۔ عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث۔