(۱۸۰۳) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ: أَذَّنَ بِلاَلٌ بِلَیْلٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ارْجِعْ إِلَی مَقَامِکَ فَنَادِ ثَلاَثًا أَلاَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ))۔ وَہُوَ یَقُولُ: لَیْتَ بِلاَلاً لَمْ تَلِدْہُ أُمُّہُ وَابْتَلَّ مِنْ نَضَحِ دَمِ جَبِینِہِ فَنَادَی ثَلاَثًا: إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ۔
ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ مُرْسَلاً وَالأَحَادِیثُ الصِّحَاحُ الَّتِی تَقَدَّمَ ذِکْرُہَا مَعَ فِعْلِ أَہْلِ الْحَرَمَیْنِ أَوْلِی بِالْقَبُولِ مِنْہُ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [منکر۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۲۴۴]
(١٨٠٣) حمید سے روایت ہے کہ سیدنا بلال (رض) نے رات کو اذان دی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی جگہ واپس جا اور تین مرتبہ اعلان کر کہ بندہ سو گیا تھا، وہ کہہ رہے تھے کہ کاش بلال کی ماں اس کو جنم نہ دیتی اور انھوں نے اپنی پیشانی کو خون کے چھینٹوں سے تر کیا اور تین مرتبہ اعلان کیا کہ بندہ سو گیا تھا۔