(١٨٠٤٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِی قِصَّۃِ بَدْرٍ قَالَ : وَکَانَ فِی الأُسَارَی أَبُو وَدَاعَۃَ السَّہْمِیُّ فَقَدِمَ ابْنُہُ الْمُطَّلِبُ الْمَدِینَۃَ فَأَخَذَ أَبَاہُ بِأَرْبَعَۃِ آلاَفِ دِرْہَمٍ فَانْطَلَقَ بِہِ ثُمَّ بَعَثَتْ قُرَیْشٌ فِی فِدَائِ الأُسَارَی فَقَدِمَ مِکْرَزُ بْنُ حَفْصٍ فِی فِدَائِ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ اجْعَلُوا رِجْلِی مَکَانَ رِجْلِہِ وَخَلُّوا سَبِیلَہُ حَتَّی یَبْعَثَ إِلَیْکُمْ بِفِدَائِہِ فَخَلُّوا سَبِیلَ سُہَیْلٍ وَحَبَسُوا مِکْرَزًا قَالَ فَفَدَی کُلُّ قَوْمٍ أَسِیرَہُمْ بِمَا رَضُوا قَالَ وَکَانَ أَکْثَرُ الأُسَارَی یَوْمَ بَدْرٍ فِدَائً الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَذَلِکَ لأَنَّہُ کَانَ رَجُلاً مُوسِرًا فَافْتَدَی نَفْسَہُ بِمِائَۃِ أُوقِیَّۃِ ذَہَبٍ ۔ [ضعیف ]
(١٨٠٤٢) ابن اسحاق بدر کے قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ابو وداعہ سہمی بدری قیدی تھا۔ اس کے بیٹے نے اپنے باپ کو چار ہزار درہموں میں حاصل کیا۔ قریشیوں نے اس کے اور اپنے قیدیوں کے فدیے روانہ کیے۔ مکرز بن حفص سہیل بن عمرو کا فدیہ لے کر آیا۔ اس نے کہا : سہیل کی جگہ مجھے قید کرلو۔ جب اس کا فدیہ آئے گا مجھے چھوڑ دینا۔ صحابہ (رض) نے سہیل کو چھوڑ کر مکرز کو قید کر لیا۔۔۔ راوی کہتے ہیں : تمام قوم نے اپنے قیدیوں کا فدیہ دیا، جتنے پر وہ راضی ہوئے اور بدر قیدیوں میں سے سب سے زیادہ فدیہ عباس بن عبدالمطلب کا تھا۔ یہ مالدر آدمی تھا۔ اس نے ایک سو اوقیہ سونا ادا کیا تھا۔