(١٨٠٦٩) فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِالرَّحْمَن السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِالْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُوعُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ أَبِی حَصِینٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : لَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَیْسَ عَلَی عَرَبِیٍّ مِلْکٌ وَلَسْنَا بِنَازِعِی مِنْ یَدِ رَجُلٍ شَیْئًا أَسْلَمَ عَلَیْہِ وَلَکِنَّا نُقَوِّمُہُمُ الْمِلَّۃَ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ یَقُولُ ہَذَا الَّذِی فِی یَدِہِ السَّبْیُ لاَ نَنْزِعُہُ مِنْ یَدِہِ بِلاَ عِوَضٍ لأَنَّہُ أَسْلَمَ عَلَیْہِ وَلاَ نَتْرُکُہُ مَمْلُوکًا وَہُوَ مِنَ الْعَرَبِ وَلَکِنَّہُ قَوَّمَ قِیمَتُہُ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ لِلَّذِی سَبَاہُ وَیَرْجِعُ إِلَی نَسَبِہِ عَرَبِیًّا کَمَا کَانَ ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ مُنْقَطِعَۃٌ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [ضعیف ]
(١٨٠٦٩) شعبی فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب نے خطبہ ارشاد فرمایا تو فرمانے لگے : عربی انسان کسی کی ملکیت نہیں ہوتا اور ہم کسی شخص کے احسان کے بارے میں جھگڑا کرنے والے نہیں ہیں لیکن ہم اس کی پانچ اونٹ قیمت مقرر کردیں گے۔
ابو عبید کہتے ہیں : جب کوئی کسی کے ہاتھ غلام ہو تو ہم بلا قیمت نہ لیں گے کیونکہ وہ اس کا محافظ ہے اور غلام بھی رہنے نہ دیں گے کیونکہ وہ عربی ہے۔ لیکن غلام بنانے والے کو پانچ اونٹ قیمت ادا کی جائے گی اور عربی اپنے نسب کی جانب واپس لوٹ جائے گا۔