hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18079

.

سنن البيهقي

18079
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٠٧٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَبَایَا بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَقَعَتْ جُوَیْرِیَۃُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِی السَّہْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ أَوْ لاِبْنِ عَمٍّ لَہُ فَکَاتَبَتْہُ عَلَی نَفْسِہَا وَکَانَتِ امْرَأَۃً حُلْوَۃً مُلاَحَۃً لاَ یَرَاہَا أَحَدٌ إِلاَّ أَخَذَتْ بِنَفْسِہِ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تَسْتَعِینُہُ فِی کِتَابَتِہَا۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَوَاللَّہِ مَا ہُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَیْتُہَا فَکَرِہْتُہَا وَقُلْتُ سَیَرَی مِنْہَا مِثْلَمَا رَأَیْتُ فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَا جُوَیْرِیَۃُ بِنْتُ الْحَارِثِ سَیِّدُ قَوْمِہِ وَقَدْ أَصَابَنِی مِنَ الْبَلاَئِ مَا لَمْ یَخْفَ عَلَیْکَ وَقَدْ کَاتَبْتُ عَلَی نَفْسِی فَأَعِنِّی عَلَی کِتَابَتِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَوْ خَیْرٌ مِنْ ذَلِکَ أُؤَدِّی عَنْکِ کِتَابَتَکِ وَأَتَزَوَّجُکِ ۔ فَقَالَتْ : نَعَمْ ۔ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَبَلَغَ النَّاسَ أَنَّہُ قَدْ تَزَوَّجَہَا فَقَالُوا أَصْہَارُ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہِ عَلَیْہ وَآلِہِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلُوا مَا کَانَ فِی أَیْدِیہِمْ مِنْ بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَلَقَدْ أُعْتِقَ بِہَا مِائَۃُ أَہْلِ بَیْتٍ مِنْ بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَمَا أَعْلَمُ امْرَأَۃً أَعْظَمَ بَرَکَۃً مِنْہَا عَلَی قَوْمِہَا مِنْہَا۔ [حسن ]
(١٨٠٧٣) عروہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو مصطلق کی لونڈیاں تقسیم فرمائیں تو جویریہ بنت حارث ثابت بن قیس بن شماس یا اس کے چچا کے بیٹے کے حصہ میں آئی۔ اس نے مکاتبت کرلی۔ وہ ایک شرمیلی باحیا عورت تھی جسے کسی نے بھی نہیں دیکھا تھا تو اس عورت نے اپنے آپ کو روک لیا اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنی مکاتبت کے بارے میں مدد کا سوال کردیا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میں نے اس کو اچھا نہ جانا۔ میں نے کہا : آپ بھی اس طرح اس سے محسوس کریں جیسے میں نے کیا۔ جب وہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہنے لگی : میں جویریہ بنت حارث ہوں اپنی قوم کے سردار کی بیٹی۔ میرے اوپر پریشانی آئی ہے جو آپ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ میں نے مکاتبت کی ہے جس میں آپ میری مدد فرمائیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یا اس سے بھی بہتر، میں تیری کتابت ادا کر کے تجھ سے شادی کرلوں۔ اس نے کہا : ہاں ! تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا کرلیا۔ جب لوگوں کو پتہ چلا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے شادی کرلی ہے تو انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سسرال بنو مصطلق کے سو افراد کو آزاد کردیا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : مجھے علم نہیں کہ اس عورت سے بڑھ کر کوئی عورت اپنی قوم کے لیے برکت کا باعث بنی ہو۔