hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18080

.

سنن البيهقي

18080
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٠٧٤) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِحُنَیْنٍ فَلَمَّا أَصَابَ مِنْ ہَوَازِنَ مَا أَصَابَ مِنْ أَمْوَالِہِمْ وَسَبَایَاہُمْ أَدْرَکَہُ وَفْدُ ہَوَازِنَ بِالْجِعْرَانَۃِ وَقَدْ أَسْلَمُوا فَقَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ لَنَا أَصْلٌ وَعَشِیرَۃٌ وَقَدْ أَصَابَنَا مِنَ الْبَلاَئِ مَا لَمْ یَخْفَ عَلَیْکَ فَامْنُنْ عَلَیْنَا مَنَّ اللَّہُ عَلَیْکَ وَقَامَ خَطِیبُہُمْ زُہَیْرُ بْنُ صُرَدَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا فِی الْحَظَائِرِ مِنَ السَّبَایَا خَالاَتُکَ وَعَمَّاتُکَ وَحَوَاضِنُکَ اللاَّتِی کُنَّ یَکْفُلْنَکَ وَذَکَرَ کَلاَمًا وَأَبْیَاتًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : نِسَاؤُکُمْ وَأَبْنَاؤُکُمْ أَحَبُّ إِلَیْکُمْ أَمْ أَمْوَالُکُمْ ؟ ۔ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ خَیَّرْتَنَا بَیْنَ أَحْسَابِنَا وَبَیْنَ أَمْوَالِنَا أَبْنَاؤُنَا وَنِسَاؤُنَا أَحَبُّ إِلَیْنَا۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَمَّا مَا کَانَ لِی وَلِبَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَہُوَ لَکُمْ وَإِذَا أَنَا صَلَّیْتُ بِالنَّاسِ فَقُومُوا وَقُولُوا إِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِرَسُولِ اللَّہِ إِلَی الْمُسْلِمِینَ وَبِالْمُسْلِمِینَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ فِی أَبْنَائِنَا وَنِسَائِنَا سَأُعْطِیکُمْ عِنْدَ ذَلِکَ وَأَسْأَلُ لَکُمْ ۔ فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِالنَّاسِ الظُّہْرَ قَامُوا فَقَالُوا مَا أَمَرَہُمْ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَمَّا مَا کَانَ لِی وَلِبَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَہُوَ لَکُمْ ۔ وَقَالَ الْمُہَاجِرُونَ : وَمَا کَانَ لَنَا فَہُوَ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ وَقَالَتِ الأَنْصَارُ وَمَا کَانَ لَنَا فَہُوَ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ فَقَالَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ : أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِیمٍ فَلاَ ۔ فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ السُّلَمِیُّ : أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَیْمٍ فَلاَ ۔ فَقَالَتْ بَنُو سُلَیْمٍ : بَلْ مَا کَانَ لَنَا فَہُوَ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ وَقَالَ عُیَیْنَۃُ بْنُ بَدْرٍ : أَمَّا أَنَا وَبَنُو فَزَارَۃَ فَلاَ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ أَمْسَکَ مِنْکُمْ بِحَقِّہِ فَلَہُ بِکُلِّ إِنْسَانٍ سِتَّۃُ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ فَیْئٍ نُصِیبُہُ فَرُدُّوا إِلَی النَّاسِ نِسَائَ ہُمْ وَأَبْنَائَ ہُمْ ۔ وَحَدِیثُ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ فِی سَبْیِ ہَوَازِنَ قَدْ مَضَی۔ [حسن۔ بدون قول صرد ]
(١٨٠٧٤) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حنین میں تھے کہ ہمیں قبیلہ ہوازن سے مال اور لونڈیاں میسر آئیں۔ لیکن ہوازن کے لوگ جعرانہ نامی جگہ پر مسلمان ہو کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملے۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہمارے مال اور افراد واپس کردیں، جو پریشانی ہمیں آئی ہے آپ پر پوشیدہ بھی نہیں ہے۔ آپ ہمارے اوپر احسان کریں جیسے اللہ نے آپ پر احسان فرمایا ہے۔ ان کے خطیب زہیر بن صرد کھڑے ہوئے۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! لونڈیوں میں آپ کی خالائیں، پھوپھیاں اور بچپن میں آپ کی پرورش کرنے والیاں بھی موجود ہیں۔ اس نے لمبی کلام کی اور اشعار پڑھے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں عورتیں اور اولاد پسند ہے یا مال ؟ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے ہمارے حسب و نسب اور مال میں اختیار دیا ہے۔ ہمیں عورتیں اور مال زیادہ محبوب ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو میرے اور بنو عبدالمطلب کے حصہ میں ہیں وہ سب تمہارا ہے۔ جس وقت میں لوگوں کو نماز پڑھاؤں تو وہاں کھڑے ہو کر کہہ دینا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسلمانوں کی جانب سفارشی بناتے ہیں یا مسلمانوں کو رسول اللہ کے پاس سفارشی پیش کرتے ہیں اپنے بیٹوں اور عورتوں کے بارے میں۔ عنقریب میں تمہیں عطا کر دوں گا اور تمہارے لیے سفارش بھی کروں گا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھائی تو وہ کھڑے ہوئے اور جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا تھا کہہ دیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو میرے اور بنو عبدالمطلب کے حصہ میں ہے وہ تمہارا ہے اور مہاجرین و انصار کہنے لگے : جو ہمارا ہے وہ بھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے اور اقرع بن حابس نے کہہ دیا کہ میں اور بنو تمیم نہ دیں گے۔ اس طرح عباس بن مرداس سلمی نے بھی کہہ دیا لیکن بنو سلیم کہنے لگے : ہمارا حصہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہی ہے اور عیینہ بن بدر نے بھی انکار کردیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اپنا حق روک لیا وہ بھی ان کی عورتیں اور بچے واپس کردیں ہم پہلے مال فیٔ سے اس کو ہر انسان کے عوض چھ اونٹ عطا کریں گے۔