(١٨٠٧٦) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ الْحَسَنِ عَنِ ابْنِ مُغَفَّلٍ : أَنَّ سَبْیًا مِنْ خَوْلاَنَ قَدِمَ وَکَانَ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا رَقَبَۃٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ فَقَدِمَ سَبْیٌ مِنَ الْیَمَنِ فَأَرَادَتْ أَنْ تُعْتِقَ فَنَہَاہَا النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقِدَمَ سَبْیٌ مِنْ مُضَرَ أَحْسِبُہُ قَالَ مِنْ بَنِی الْعَنْبَرِ فَأَمَرَہَا أَنْ تُعْتِقَ ۔
(ت) تَابَعَہُ شُعْبَۃُ عَنْ عُبَیْدٍ ۔ [صحیح ]
(١٨٠٧٦) ابن مغفل فرماتے ہیں کہ خولان سے لونڈیاں آئیں اور حضرت عائشہ (رض) کے ذمہ اسماعیل کی اولاد سے ایک غلام آزاد کرنا تھا۔ یمن سے غلام آئے۔ حضرت عائشہ (رض) نے آزاد کرنے کا ارادہ فرمایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرما دیا۔ میرا خیال ہے کہ پھر مضر قبیلہ کے غلام آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بنو عنبر سے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو آزاد کرنے کا حکم دیا۔