(١٨٠٧٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِیُّ حَدَّثَنَا مَسْلَمَۃُ بْنُ عَلْقَمَۃَ الْمَازِنِیُّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : ثَلاَثٌ سَمِعْتُہُنَّ لِبَنِی تَمِیمٍ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لاَ أُبْغِضُ بَنِی تَمِیمٍ بَعْدَہُنَّ أَبَدًا کَانَ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا نَذْرٌ مُحَرَّرٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ فَسُبِیَ سَبْیٌ مِنْ بَلْعَنْبَرٍ فَلَمَّا جِیئَ بِذَاکَ السَّبْیِ قَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنْ سَرَّکِ أَنْ تَفِی بِنَذْرِکِ فَأَعْتِقِی مُحَرَّرًا مِنْ ہَؤُلاَئِ ۔ فَجَعَلَہُمْ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ وَجِیئَ بِنَعَمٍ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَۃِ فَلَمَّا رَآہُ رَاعَہُ حُسْنُہُ قَالَ فَقَالَ : ہَذَا نَعَمُ قَوْمِی ۔ فَجَعَلَہُمْ قَوْمَہُ قَالَ وَقَالَ : ہُمْ أَشَدُّ النَّاسِ قِتَالاً فِی الْمَلاَحِمِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَامِدِ بْنِ عُمَرَ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ أَبِی زُرْعَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ۔
[صحیح۔ مسلم ٢٥٢٥]
(١٨٠٧٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بنو تمیم کے بارے تین باتیں سنیں : 1 میں بنو تمیم سے اس کے بعد بغض نہ رکھوں گا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میرے ذمہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے ایک غلام آزاد کرنا نذر تھی۔ جب بلعنبر سے قیدی بنائے گئے اور ان کو لایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عائشہ اگر تجھے اچھا لگے کہ تو اپنی نذر پوری کرے تو ان لوگوں سے غلام کو آزاد کر دے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اسماعیل کی اولاد سے شمار فرمایا اور جب صدقہ کے اونٹ لائے گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی خوبصورتی کو دیکھا تو فرمایا : یہ جانور میری قوم کے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں پر لڑائیوں میں وہ سب سے زیادہ سخت ہوتے ہیں۔