(١٨٠٩٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عَمِّہِ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لَمَّا بَعَثَ إِلَی ابْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ نَہَی عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ ۔
زَادَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ الشَّافِعِیُّ فَکَانَ سُفْیَانُ یَذْہَبُ إِلَی أَنَّ قَوْلَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ہُمْ مِنْہُمْ ۔ إِبَاحَۃٌ لِقَتْلِہِمْ وَأَنَّ حَدِیثَ ابْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ نَاسِخٌ لَہُ قَالَ وَکَانَ الزُّہْرِیُّ إِذَا حَدَّثَ بِحَدِیثِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ أَتْبَعَہُ حَدِیثَ ابْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَحَدِیثُ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ کَانَ فِی عُمْرَۃِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَإِنْ کَانَ فِی عُمْرَتِہِ الأُولَی فَقَدْ قُتِلَ ابْنُ أَبِی الْحُقَیْقِ قَبْلَہَا وَقِیلَ فِی سَنَتِہَا وَإِنْ کَانَ فِی عُمْرَتِہِ الآخِرَۃِ فَہُوَ بَعْدَ أَمْرِ ابْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ غَیْرَ شَکٍّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ قَالَ وَلَمْ نَعْلَمُہُ رَخَّصَ فِی قَتْلِ النِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ ثُمَّ نَہَی عَنْہُ وَمَعْنَی نَہْیِہِ عِنْدَنَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ أَنْ یُقْصَدَ قَصْدُہُمْ بِقَتْلٍ وَہُمْ یُعْرَفُونَ مُمَیَّزِینَ مِمَّنْ أَمَرَ بِقَتْلِہِ مِنْہُمْ قَالَ وَمَعْنَی قَوْلِہِ : ہُمْ مِنْہُمْ ۔ أَنَّہُمْ یَجْمَعُونَ خَصْلَتَیْنِ أَنْ لَیْسَ لَہُمْ حُکْمُ الإِیمَانِ الَّذِی یَمْنَعُ الدَّمَ وَلاَ حُکْمَ دَارِ الإِیمَانِ الَّذِی یَمْنَعُ الْغَارَۃَ عَلَی الدَّارِ
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ أَمَّا قَوْلُہُ فِی حَدِیثِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ فِی عُمْرَتِہِ ۔
[ضعیف۔ تقدم برقم ١٨٠٨٦]
(١٨٠٩٢) ابن کعب بن مالک اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ابن ابی الحقیق کی طرف روانہ فرمایا تو عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
(ب) سفیان کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان کہ وہ انھیں میں سے ہیں سے مراد یہ ہے کہ ان کا قتل جائز ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : صفب بن جثامہ کی حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عمرہ کے بارہ میں ہے۔ اگر آپ کا پہلا عمرہ ہے تو ابن ابی الحقیق اس سے قبل قتل ہوچکا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سال میں اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا آخری عمرہ ہے تو یہ ابن ابی الحقیق کے بعد کی بات ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ راوی فرماتے ہیں : ہمیں علم نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رخصت کے بعد قتل سے منع فرمایا۔ عورتوں اور بچوں کا قتل کرنا قصداً ممنوع ہے۔ ہم منہم : 1 وہ اہل ایمان نہیں۔ جس کی وجہ سے خون بہانا ممنوع ہو۔ 2 امن کے حکم پر نہیں جس کی وجہ سے غارت گری منع ہے۔ قال الشیخ : صفب بن جثامہ کی حدیث آپ کے عمرہ کے بارہ میں ہے۔