(١٨٠٩٣) فَإِنَّمَا قَالَ ذَلِکَ اسْتِدْلاَلاً بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الْفَارِیَابِیُّ حَدَّثَنَا عَلَیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَرَّ بِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَنَا بِالأَبْوَائِ أَوْ بِوَدَّانَ فَأَہْدَیْتُ إِلَیْہِ لَحْمَ حِمَارِ وَحْشٍ فَرَدَّہُ عَلَیَّ فَلَمَّا رَأَی الْکَرَاہَۃَ فِی وَجْہِی قَالَ : إِنَّہُ لَیْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَیْکَ وَلَکِنَّا حُرُمٌ ۔
قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ ذَرَارِیِّ الْمُشْرِکِینَ فَیُبَیَّتُونَ فَیُصَابُ مِنْ نِسَائِہِمْ وَذَرَارِیِّہِمْ فَقَالَ : ہُمْ مِنْہُمْ ۔
قَالَ وَسَمِعْتُہُ یَقُولُ : لاَ حِمَی إِلاَّ لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ ۔ قَالَ عَلِیٌّ فَرَدَّدَہُ سُفْیَانُ فِی ہَذَا الْمَجْلِسِ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ قَالَ حَفِظْتُہُ غَیْرَ مَرَّۃٍ سَمِعْتُہُ وَکَانَ إِذَا حَدَّثَ بِہَذَا الْحَدِیثِ قَالَ وَأَخْبَرَنِی ابْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عَمِّہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمَّا بَعَثَ إِلَی ابْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ نَہَی عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٠٩٣) صعب بن جثامہ فرماتے ہیں کہ میں ابواء یا ودان نامی جگہ پر تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے قریب سے گزرے تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نیل گائے کا گوشت تحفہ میں دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے واپس کردیا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے چہرے پر کراہت کے آثار دیکھے تو فرمایا : ہم نے کسی وجہ سے واپس نہیں کیا لیکن یہ ہمارے اوپر حرام ہے۔
فرماتے ہیں : مشرکین کی اولاد کے بارے پوچھا گیا کہ جب شب خون کے وقت ان کی عورتیں اور بچے مارے جائیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ بھی انہی میں سے ہیں۔
کہتے ہیں : میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ چراگاہ صرف اللہ اور رسول کی ہے۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ سفیان نے مجلس کے دوران دو مرتبہ یہ بات کہی۔
سفیان جب اس حدیث کو بیان فرماتے تو کہتے تھے کہ ابن کعب بن مالک اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ نے انھیں ابن ابی الحقیق کی طرف بھیجا تو عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔