(١٨٠٩٤) وَأَمَّا تَارِیخُ قَتْلِ ابْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ وَتَارِیخُ عُمْرَتِہِ فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ہُوَ ابْنُ یَسَارٍ قَالَ : فَلَمَّا انْقَضَی أَمْرُ الْخَنْدَقِ وَأَمْرُ بَنِی قُرَیْظَۃَ وَکَانَ أَبُو رَافِعٍ سَلاَمُ بْنُ أَبِی الْحُقَیْقِ مِمَّنْ کَانَ حَزَّبَ الأَحْزَابَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - اسْتَأْذَنَتِ الْخَزْرَجُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی قَتْلِ سَلاَّمِ بْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ وَکَانَ بِخَیْبَرَ فَأَذِنَ لَہُمْ فِیہِ قَالَ ثُمَّ غَزَا بَنِی الْمُصْطَلِقِ فِی شَعْبَانَ سَنَۃَ سِتٍّ ثُمَّ خَرَجَ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ مُعْتَمِرًا عَامَ الْحُدَیْبِیَۃِ ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : ثُمَّ کَانَتْ عُمْرَتُہُ الَّتِی تُسَمَّی عُمْرَۃَ الْقَضَائِ ثُمَّ عُمْرَۃُ الْجِعْرَانَۃِ ثُمَّ عُمْرَتُہُ فِی سَنَۃِ حَجَّتِہِ کُلُّہُنَّ بَعْدَ ذَلِکَ وَقُتِلَ ابْنُ أَبِی الْحُقَیْقِ کَانَ قَبْلَہُنَّ فَکَیْفَ یَکُونُ نَہْیُہُ فِی قِصَّۃِ ابْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ نَاسِخًا لِحَدِیثِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ الَّذِی کَانَ بَعْدَہُ وَزَعَمُوا أَنَّہُ ہَاجَرَ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَمَاتَ فِی خِلاَفَۃِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَإِنْ کَانَ سَمَاعُہُ الْحَدِیثَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعْدَ مَا ہَاجَرَ فَیَکُونُ ذَلِکَ أَیْضًا بَعْدَ قِصَّۃِ ابْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ فَإِنَّ فِی حَدِیثِ الْہُدْنَۃِ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہُ أَوَّلُ مَا الْتَقَی بِالنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَیَکُونُ وَجْہُ الْحَدِیثَیْنِ مَا أَشَارَ إِلَیْہِ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ مِنَ اخْتِلاَفِ الْحَالَیْنِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [ضعیف ]
(١٨٠٩٤) محمد بن اسحاق بن یسار فرماتے ہیں کہ جب خندق اور بنو قریظہ کا معاملہ ختم ہوا تو ابو رافع سلام بن ابی الحقیق جس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف لشکر ترتیب دئیے تھے۔ خزرج والوں نے سلام بن ابی الحقیق کے قتل کی اجازت مانگی۔ یہ اس وقت خیبر میں تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دے دی۔ پھر شعبان ٦ ہجری میں بنو مصطلق ہوا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ کے سال عمرہ ادا فرمایا۔
شیخ فرماتے ہیں : اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عمرۃ القضاء تھا پھر جعرانہ والا پھر وہ عمرہ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کے ساتھ کیا اور ابن ابی الحقیق اس سے پہلے قتل ہوچکا تھا۔
پھر کیسے ممکن ہے کہ آپ کا ابن ابی الحقیق کے قصہ میں عورتوں و بچوں کے قتل سے منع فرمانا اور صعب بن جثامہ کی حدیث کو منسوخ کرنا جو اس کے بعد ہے اور ان کا گمان ہے کہ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہجرت کی اور ابوبکر (رض) کی خلافت میں وفات پائی۔ اگر ہجرت کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے تب بھی ابن ابی الحقیق کے قصہ کے بعد کی بات ہے اور جنگ بندی کے بعد سب سے پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملے۔